مضر صحت لسی پینے سے 3 بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے 5 افراد کی حالت غیر

شجاع آباد کے علاقے بستی ملوک میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں گھر کی بنی ہوئی مبینہ طور پر مضرِ صحت لسی پینے سے ایک ہی خاندان کے 5 افراد کی حالت بگڑ گئی۔ متاثرین میں 3 معصوم بچے بھی شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق بستی ملوک کے رہائشی 55 سالہ محمد انور (گھر کے سربراہ) نے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ گھر میں تیار کردہ لسی پی، جس کے کچھ ہی دیر بعد تمام افراد کی طبیعت اچانک ناساز ہوگئی۔

متاثرین میں محمد انور، علی اور تین بچے شامل ہیں جنہیں فوری طور پر شدید الٹیاں اور بے ہوشی کی علامات ظاہر ہونے لگیں۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو اور امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچیں اور متاثرہ افراد کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد قریبی ہسپتال منتقل کیا۔

ڈاکٹروں کے مطابق متاثرین کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے اور انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستان اور آذربائیجان میں معاشی اشتراک؛ اقتصادی تعاون کیلئے مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام کا اعلان

مقامی پولیس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ لسی میں کوئی زہریلی چیز شامل تھی یا لسی بنانے کے لیے استعمال ہونے والا دہی خراب تھا۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ لسی کے نمونے لیبارٹری بھجوانے اور دہی کی خریداری کے مقام کا تعین کرنے کے لیے کارروائی کی جا رہی ہے تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔

Scroll to Top