ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدے کا مسودہ تیار، العربیہ

معروف عرب میڈیا “العربیہ” نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کی تیز ترین سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ایران اور امریکہ کے درمیان رضامندی کی صورت میں متوقع معاہدے کا ایک اہم مسودہ سامنے آ گیا ہے۔

باوثوق ذرائع کے مطابق اس دستاویزی مسودے میں 9 کلیدی نکات شامل ہیں، جن کے تحت دونوں ممالک تمام محاذوں پر فوری، جامع اور غیر مشروط جنگ بندی کرنے کے علاوہ ایک دوسرے کی عسکری، سویلین یا معاشی تنصیبات پر حملے مکمل روکنے کے پابند ہوں گے۔ دونوں ممالک کے مابین جاری شدید پروپیگنڈا اور میڈیا وار کو بھی فوری بند کرنے کی تصدیق کی گئی ہے۔

اس خفیہ مسودے کی رو سے دونوں فریقین ایک دوسرے کی ملکی خودمختاری، علاقائی سالمیت کا احترام کریں گے اور اندرونی معاملات میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی جائے گی۔ اس امن فارمولے کے تحت خلیج عرب، آبنائے ہرمز اور بحر عمان میں جہاز رانی کی مکمل آزادی کو یقینی بنایا جائے گا۔

کسی بھی ممکنہ تنازع سے بچنے اور شرائط پر نظر رکھنے کے لیے ایک مشترکہ نگرانی کا نظام قائم کیا جائے گا، جبکہ معطل شدہ تمام تصفیہ طلب مسائل پر باضابطہ اعلان کے محض 7 دنوں کے اندر باقاعدہ مذاکرات شروع کر دیے جائیں گے۔

اس تاریخی بریک تھرو کے بدلے واشنگٹن کی جانب سے تہران پر عائد تمام سخت اقتصادی پابندیاں مرحلہ وار ختم کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔ یہ ابتدائی معاہدہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی توثیق کرتا ہے، جو دونوں ممالک کی جانب سے باضابطہ اعلان کے فوراً بعد نافذ العمل ہو جائے گا۔ اس بڑے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان خطے کے اہم ملک چین کے تعاون اور اثر و رسوخ پر بھی بہت زیادہ بھروسہ کر رہا ہے۔

دوسری جانب پاکستانی ذرائع نے العربیہ کو اس ممکنہ معاہدے کے حوالے سے محتاط امید کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دونوں فریقین کے مابین اختلافات کو کم کرنا اتنا آسان نہیں کیونکہ مطالبات کی سطح بہت زیادہ ہے۔ اس وقت بھی اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم اور آبنائے ہرمز جیسے پیچیدہ معاملات پر اختلافات دور کرنے کے لیے تہران میں انتہائی حساس اور طویل مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔

تہران کی جانب سے دی گئی حالیہ تجاویز پر امریکی جواب پاکستانی ثالث کے ذریعے ایران کو پہنچایا جا چکا ہے جس کا ایرانی حکام جائزہ لے رہے ہیں۔ اسی مشن کے سلسلے میں پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی تہران میں موجود ہیں جہاں انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے دوسری بار اہم ملاقات کی ہے۔

Scroll to Top