امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اپنے بڑے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کی شادی میں شرکت کی کوشش کریں گے، تاہم ایران سے متعلق جاری صورتحال اور حکومتی مصروفیات کے باعث اس وقت ان کے لیے تقریب میں شرکت کرنا آسان نہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 48 سالہ ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اس ہفتے کے اختتام پر بہاماس میں بیٹینا اینڈرسن کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوں گے۔
شادی کی تقریب ایک نجی جزیرے پر منعقد کی جائے گی، جس میں صرف قریبی اہلِ خانہ اور چند قریبی دوستوں کو مدعو کیے جانے کا امکان ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق گزشتہ روز اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے بیٹے کی خواہش ہے کہ وہ شادی کی تقریب میں شریک ہوں، لیکن اس وقت ایران سے متعلق معاملات اور دیگر حکومتی امور ان کی اولین ترجیح ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ تقریب میں شرکت کی کوشش کریں گے، تاہم موجودہ حالات ان کے لیے موزوں نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ شادی میں شریک ہوتے ہیں تو میڈیا تنقید کرے گا اور اگر شرکت نہیں کرتے تب بھی انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے اپنے بیٹے اور ہونے والی بہو کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ دونوں خوشگوار ازدواجی زندگی گزاریں گے۔
یہ بھی پڑھیں : بنکاک سے ماسٹرز ڈگریاں، خیبرپختونخوا کی طالبات نے بڑا اعزاز حاصل کر لیا
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر ٹرمپ آرگنائزیشن میں ایگزیکٹو نائب صدر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور اپنے والد کے سیاسی بیانیے کے سرگرم حامی سمجھے جاتے ہیں۔ وہ اکثر سیاسی جلسوں اور عوامی تقریبات میں بھی اپنے والد کے ہمراہ دکھائی دیتے ہیں۔
گزشتہ برس ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر نے عندیہ دیا تھا کہ وہ مستقبل میں صدارتی انتخاب میں حصہ لینے پر غور کر سکتے ہیں، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت جنوری 2029 تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
تاحال ریپبلکن قیادت کی جانب سے آئندہ صدارتی امیدوار یا جانشین کے حوالے سے کوئی واضح اعلان سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب ایران سے متعلق پالیسیوں اور جنگی صورتحال کے باعث ڈونلڈ ٹرمپ کو سیاسی دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ مہنگائی اور معاشی مسائل کے معاملے پر بھی ووٹرز میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق آئندہ وسط مدتی انتخابات سے قبل یہ عوامل امریکی سیاست میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔





