صوبائی حکومت کی جانب سے علاقائی زبانوں کے فروغ کے لیے ہندکو زبان کو سرکاری سکولوں کے نصاب میں شامل کرنے کا فیصلہ تو کر لیا گیا، تاہم تربیت یافتہ اساتذہ کی شدید کمی اس منصوبے کیلئے بڑا چیلنج بن گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق پشاور اور ڈیرہ کے متعدد سرکاری سکولوں میں ہندکو زبان کی نصابی کتابیں شامل کر دی گئی ہیں، لیکن پرائمری، مڈل اور ہائی سکول سطح پر اس مضمون کو پڑھانے کیلئے مطلوبہ تعداد میں اساتذہ دستیاب نہیں ہیں۔
محکمہ تعلیم کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بیشتر سکولوں میں پہلے ہی تدریسی عملہ محدود ہے، جس کے باعث نئی زبان کیلئے علیحدہ تدریسی انتظامات کرنا مشکل قرار دیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر پرائمری سکولوں میں عمومی اساتذہ کی کمی جبکہ مڈل اور ہائی سکولوں میں اضافی مضمون کیلئے استعداد ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔
تعلیمی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ نئے تعلیمی سال کے آغاز پر ہندکو زبان میں طلبہ کے داخلے اور باقاعدہ تدریس کی شرح کم رہ سکتی ہے، کیونکہ نہ صرف اساتذہ کی کمی درپیش ہے بلکہ نصابی کتابوں کی مکمل ترسیل بھی تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔
ذرائع کے مطابق اندرون شہر پشاور اور متعلقہ علاقوں میں داخلہ مہم یکم ستمبر سے شروع ہونے کی توقع ہے، تاہم اس سے قبل ہندکو زبان کی تدریس کیلئے عملی انتظامات مکمل کرنا محکمہ تعلیم کیلئے ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔
ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ علاقائی زبانوں کے فروغ کیلئے صرف نصاب میں شمولیت کافی نہیں بلکہ تربیت یافتہ اساتذہ، تدریسی سہولیات اور مؤثر منصوبہ بندی بھی ناگزیر ہے۔





