سیکیورٹی ذرائع کے مطابق لکی مروت میں انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے ایک سنسنی خیز اور بڑا انکشاف سامنے آیا ہے جہاں پولیس امن کمیٹی کے سرکردہ رکن انسپکٹر صبور کا سگا بھتیجا فتنہ الخوارج کا سرگرم کارندہ نکلا ہے، جبکہ اس مجرمانہ کارروائی میں انسپکٹر صبور کا بیٹا بھی دہشت گردوں کی سہولت کاری میں براہِ راست ملوث پایا گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ فورسز نے ٹھوس اور ناقابلِ تردید شواہد کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے بھتیجے کو گرفتار کر لیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق ان ٹھوس ثبوتوں کے منظرِ عام پر آنے کے بعد پولیس امن کمیٹی کے دیگر اراکین کو ویلیج ڈیفنس کمیٹی لنڈی وا اور کرم پار کے چیئرمین نجیب اللہ نے واقعے کی تمام تر تفصیلات سے باقاعدہ آگاہ کیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق گرفتار شخص کے خوارجی ہونے کے اس بھیانک انکشاف کے بعد خود پولیس امن کمیٹی کے اندر بھی شدید اختلافات اور پھوٹ پیدا ہو گئی ہے کہ آخر ایک قانوناً مطلوب خطرناک شخص کو پولیس امن کمیٹی کے سائے اور اثر و رسوخ میں پناہ کیوں دی گئی۔
اس معاملے میں مزید تشویشناک بات یہ سامنے آئی ہے کہ پولیس امن کمیٹی کے صدر خالد خان کا ایک آڈیو وائس نوٹ بھی سامنے آیا ہے، جس میں وہ کھلے عام ریاستی اداروں کے ساتھ تصادم، سیکیورٹی فورسز سے ہتھیار واپس لینے اور پاک فوج کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے جیسی انتہائی خطرناک اور فتنہ انگیز زبان استعمال کر رہے ہیں۔ فورسز کی اس کارروائی کے بعد صبور علی کی کچھ ویڈیوز بھی منظرِ عام پر آئی ہیں جن میں وہ اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے پاک فوج پر من گھڑت الزامات عائد کر رہا ہے کہ فورسز نے گھر میں داخل ہو کر سامان لوٹا اور سات افراد کو گرفتار کیا۔ اب سیکیورٹی ذرائع کی جانب سے یہ اصولی سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر کوئی گروہ خود کو پولیس امن کمیٹی کہتا ہے مگر اس کی زبان، طرزِ عمل، کارروائیاں اور دھمکیاں فتنہ الخوارج جیسی ہوں تو پھر دونوں کے کردار میں کیا فرق باقی رہ جاتا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے انتہائی خفیہ اور مصدقہ انٹیلیجنس اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے ایک خودکش بمبار کی گرفتاری کے لیے انسپکٹر صبور کے بھتیجے کے گھر پر چھاپہ مارا تھا اور اطلاعات کے مطابق وہ مطلوبہ خودکش بمبار صبور علی کے گھر کے اندر ہی موجود تھا۔ جیسے ہی سیکیورٹی فورسز صبور علی کے گھر پہنچیں تو اس خوارجی دہشت گرد کو قانون کی گرفت سے بچانے اور فرار کرانے کے لیے صبور علی اور اس کے مسلح ساتھیوں نے گھر کے اندر سے فورسز پر اندھا دھند اور شدید فائرنگ شروع کر دی تاکہ مطلوبہ شخص کو حراست میں لینے سے روکا جا سکے۔
سوال یہ ہے کہ ایک بدنامِ زمانہ خوارج دہشت گرد، پولیس امن کمیٹی کے رکن صبور علی کے گھر میں آخر کیا کر رہا تھا اور اگر اس کا دہشت گرد نیٹ ورک سے کوئی تعلق نہیں تھا تو فورسز کی کارروائی کے وقت اتنی شدید مزاحمت اور براہِ راست فائرنگ کیوں کی گئی۔ کیا پولیس امن کمیٹی کا نام اور پلیٹ فارم استعمال کرکے خوارج کو محفوظ راستے اور سہولت کاری فراہم کی جا رہی ہے اور کیا پولیس اور امن کمیٹی کے نام کو ایک ڈھال بنا کر دہشت گرد عناصر کو پناہ دی جا رہی ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اب صبور علی اور اس کے مٹھی بھر ساتھی پولیس امن کمیٹیوں کے پلیٹ فارم کا غلط استعمال کرتے ہوئے پاک فوج کے خلاف ایک منظم اور غلیظ پروپیگنڈا کر رہے ہیں اور اس کے ذریعے معصوم عوام کو ریاست کے خلاف اشتعال دلانے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔ ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز مہم چلانا، فورسز کی کارروائی کو متنازع بنانا اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے دفاع میں بیانات دینا انتہائی افسوسناک اور ناقابلِ برداشت عمل قرار دیا جا رہا ہے۔
اگر کوئی گروہ پولیس امن کمیٹی کے نام پر ریاستی اداروں کے خلاف محاذ کھولے، فورسز کی انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالے اور دہشت گرد سہولت کاروں کی پشت پناہی کرے تو یہ سوال اٹھنا بالکل فطری ہے کہ آیا یہ عناصر واقعی علاقے میں امن چاہتے ہیں یا کسی اور ملک دشمن ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ ریاستِ پاکستان اور سیکیورٹی ادارے کسی صورت اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ پولیس امن کمیٹی کے نام پر نجی ملیشیا اور مسلح جتھے وجود میں آئیں، جو خود کو قانون سے بالاتر سمجھ کر اسلحہ لہراتی پھریں، ریاستی اداروں کو دھمکائیں اور دہشت گرد سہولت کاروں کے دفاع می
ں کھڑی ہوں۔





