روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جانے کے خواب دیکھنے والے پاکستانیوں کے لیے برطانیہ نے شاندار موقع فراہم کر دیا ہے جہاں ہنرمند افراد کے لیے معاشی ترقی کے دروازے کھولتے ہوئے اسکلڈ ورکر ویزے کے حصول کو انتہائی آسان بنا دیا گیا ہے۔
اس ویزے کی سب سے پرکشش خصوصیت یہ ہے کہ اس کے ذریعے برطانیہ میں نہ صرف باعزت روزگار ملتا ہے بلکہ مستقبل میں وہاں مستقل سکونت حاصل کرنے کی راہ بھی ہموار ہو جاتی ہے۔
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ اسلام آباد کے مطابق اسکلڈ ورکر ویزا حاصل کرنے کے لیے بنیادی اور اہم ترین شرط یہ ہے کہ امیدوار کے پاس برطانوی ہوم آفس سے منظور شدہ آجر کی جانب سے جاب آفر اور سرٹیفکیٹ آف اسپانسر شپ موجود ہو۔
اس کے ساتھ ہی امیدوار کا پیشہ برطانوی حکومت کی منظور شدہ فہرست میں شامل ہونا، انگریزی زبان پر عبور اور مقررہ تنخواہ کے معیار پر پورا اترنا لازمی ہے۔
یہ معتبر ویزا ابتدائی طور پر پانچ سال کے لیے جاری کیا جاتا ہے جس میں بعد میں توسیع بھی ممکن ہے، جبکہ پانچ سالہ مدت مکمل ہونے پر مستقل رہائش کے لیے درخواست دی جا سکتی ہے۔
پاکستانی ہنرمندوں کے لیے ایک اور بڑی سہولت یہ ہے کہ وہ اس ویزے کے تحت اپنی شریک حیات اور بچوں کو بھی اپنے ساتھ برطانیہ لے جا سکتے ہیں جس سے فیملی کے ساتھ وہاں سیٹل ہونا ممکن ہو جاتا ہے۔
ویزے کا تمام تر عمل مکمل طور پر آن لائن اور شفاف ہے جس کے لیے ملازمت شروع ہونے سے تین ماہ قبل درخواست دی جا سکتی ہے۔
عام طور پر برطانیہ سے باہر سے موصول ہونے والی درخواستوں پر محض تین ہفتوں میں فیصلہ سنا دیا جاتا ہے جبکہ برطانیہ کے اندر موجود درخواست گزاروں کے لیے یہ عمل آٹھ ہفتوں میں مکمل ہوتا ہے، تاہم جلدی ویزا حاصل کرنے کے لیے تیز رفتار سروس کا آپشن بھی موجود ہے۔
برطانیہ کا یہ اسکلڈ ورکر ویزا ہنرمند پاکستانیوں کو قانونی ملازمت، اعلیٰ تعلیم، آزادانہ بین الاقوامی سفر اور سماجی خدمات کی مکمل آزادی دیتا ہے۔
یہ بات ذہن نشین رکھنا ضروری ہے کہ اس ویزے پر قیام کے دوران برطانوی حکومت کی جانب سے ملنے والی سرکاری مالی معاونت، پبلک فنڈز اور پنشن تک رسائی کی اجازت نہیں ہوتی۔





