اپوزیشن لیڈرمحمود خان اچکزئی کے خلاف چمن جلسے میں مبینہ اشتعال انگیز تقریر کرنےپر ایف آئی آر درج

اپوزیشن لیڈرمحمود خان اچکزئی کے خلاف چمن جلسے میں مبینہ اشتعال انگیز تقریر کرنےپر ایف آئی آر درج

بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں29مئی کو ہونے والے ایک جلسے میں اشتعال انگیز اور متنازعہ تقریر کرنے پر اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق درج کی گئی رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جلسے کے دوران کی گئی تقریر میں ایسے نکات شامل تھے جن سے عوامی جذبات بھڑکنے اور ریاستی اداروں کے بارے میں منفی تاثر پیدا ہونے کا خدشہ تھا، حکام کا کہنا ہے کہ حساس خطے میں اس نوعیت کی گفتگو امن عامہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

چمن ایک ایسا علاقہ ہے جو پہلے ہی اسمگلنگ، سرحدی نقل و حرکت اور مختلف سماجی و قبائلی مسائل کے باعث نازک صورتحال سے گزر رہا ہے، ایسے میں حکومتی مؤقف کے مطابق اشتعال انگیز بیانات صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

ایف آئی آر کے مطابق جلسے میں بعض ایسے بیانات بھی دیے گئے جن میں مسلح تنظیموں کے حوالے سے نرم رویہ یا ان کی حمایت کا تاثر دیا گیا، جسے ریاستی اداروں نے سنجیدگی سے لیا ہے،حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی غیر قانونی یا مسلح تنظیم کی حمایت یا اس کی حوصلہ افزائی قانون کے منافی ہے اور اس سے امن و امان کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

مزید کہا گیا ہے کہ ریاستی اداروں کے خلاف سخت یا اشتعال انگیز زبان استعمال کرنا نہ صرف ادارہ جاتی وقار کے خلاف ہے بلکہ اس سے عوام میں تقسیم اور بداعتمادی بھی پیدا ہو سکتی ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مؤقف ہے کہ اظہار رائے کی آزادی اپنی جگہ اہم ہے، تاہم اس آزادی کی حدود قانون اور قومی سلامتی کے تقاضوں کے اندر رہ کر ہی استعمال کی جا سکتی ہیں، کسی بھی قسم کی ایسی گفتگو جو تشدد، نفرت یا بدامنی کو ہوا دے، اس پر قانونی کارروائی ریاست کی ذمہ داری ہے۔

حکام کے مطابق درج کی گئی رپورٹ کی بنیاد پر مزید قانونی کارروائی کا جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ علاقے میں امن و استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

Scroll to Top