قائمہ کمیٹی خارجہ امور کا اہم اجلاس، قانونی ہجرت اور سفارتی اصلاحات پر جامع غور

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کا اجلاس چیئرپرسن حنا ربانی کھر کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں قانونی ہجرت کے فروغ، انسانی اسمگلنگ کی روک تھام، اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل اور سفارتی اصلاحات سمیت مختلف اہم امور کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران اسپین کی جانب سے متعارف کرائی گئی ریگولرائزیشن اسکیم پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ کمیٹی نے اس اقدام کو اسپین میں مقیم غیر دستاویزی پاکستانیوں کے لیے ایک اہم موقع قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس کے ذریعے انہیں قانونی حیثیت حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ کمیٹی نے حکومت کو ہدایت کی کہ پاکستانی شہریوں کو اس اسکیم سے بھرپور فائدہ پہنچانے کے لیے فعال کردار ادا کیا جائے۔

ارکان نے غیر قانونی ہجرت کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے محفوظ اور قانونی ذرائع سے بیرون ملک جانے کے مواقع بڑھانے پر زور دیا۔ اس کے ساتھ انسانی اسمگلنگ میں ملوث نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر آگاہی مہم چلانے کی سفارش بھی کی گئی تاکہ شہریوں کو اس خطرناک رجحان سے محفوظ رکھا جا سکے۔

وزارت خارجہ کے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بیرون ملک مقیم ہزاروں پاکستانیوں کو ضروری دستاویزات کے حصول میں سہولت فراہم کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق پاسپورٹ، پولیس کلیئرنس اور ویزا کے اجرا کے عمل کو آسان بنانے کے لیے خصوصی اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔

چیئرپرسن حنا ربانی کھر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یورپی ممالک میں امیگریشن قوانین مزید سخت ہوتے جا رہے ہیں، ایسے حالات میں پاکستان کو اپنے شہریوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے زیادہ مؤثر اور متحرک کردار ادا کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں : یوٹیوبرعادل راجہ کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب، پاکستان کیخلاف اسرائیلی اخبارکوانٹرویو

انہوں نے اسپین کی ریگولرائزیشن پالیسی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام وہاں مقیم پاکستانی کمیونٹی کو قانونی تحفظ فراہم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

اجلاس میں سفارتی تعیناتیوں اور تبادلوں سے متعلق پالیسی پر بھی بریفنگ دی گئی، جس میں میرٹ، پیشہ ورانہ صلاحیت اور پالیسی کے تسلسل کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

کمیٹی نے مستقبل کے سفارتکاروں کی جدید تقاضوں کے مطابق تربیت کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے سفارش کی کہ انہیں عالمی معیار کے تربیتی اداروں سے استفادہ کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔

اجلاس کے اختتام پر اوورسیز پاکستانیوں کی فلاح و بہبود اور سفارتی نظام میں اصلاحات کے حوالے سے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا، جبکہ متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

Scroll to Top