خیبرپختونخوا میں تعلیمی اصلاحات کا نیا منصوبہ، 72 چیف منسٹر ماڈل سکولز کے قیام کا فیصلہ
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت چیف منسٹر ماڈل سکولز کے قیام سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مجوزہ منصوبے اور اس کے ابتدائی خدوخال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر اعلیٰ کو بتایا گیا کہ صوبے کے تمام اضلاع میں آئندہ مالی سال کے دوران لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے مجموعی طور پر 72 چیف منسٹر ماڈل سکولز قائم کیے جائیں گے۔ منصوبے کی مجموعی لاگت کا تخمینہ 9.5 ارب روپے لگایا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے چیف منسٹر ماڈل سکولز کے قیام کے لیے قانونی فریم ورک کی تیاری کا عمل فوری طور پر شروع کرنے کی ہدایت کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ حکومت کے تعلیمی اصلاحاتی ایجنڈے میں سنگ میل ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ماڈل سکولز میں جدید تدریسی نظام، تربیت یافتہ اساتذہ اور عالمی معیار کی تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ طلبہ کو معیاری تعلیم میسر آ سکے۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ معیاری تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور صوبائی حکومت تعلیم کے شعبے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع اور دیرپا اصلاحات متعارف کرا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم پر سرمایہ کاری دراصل صوبے کے روشن مستقبل اور انسانی ترقی میں سرمایہ کاری ہے، جبکہ ان ماڈل سکولز کو صوبے میں جدید اور معیاری تعلیم کا مثالی ماڈل بنایا جائے گا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ منصوبے کے لیے علیحدہ قانون اور قواعد و ضوابط مرتب کیے جائیں گے، جبکہ اس کے انتظامی امور چلانے کے لیے سنٹرلائزڈ بورڈ آف گورنرز بھی قائم کیا جائے گا۔





