بلوچستان حکومت نے ایرانی پیٹرول کی نئی قیمت مقرر کر دی

بلوچستان حکومت نے ایرانی پیٹرول کی نئی قیمت مقرر کر دی

بلوچستان حکومت نے صوبے بھر میں ایرانی پیٹرول کی سرکاری قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر کر دی ہے جس کے تحت مقررہ نرخ سے زائد قیمت وصول کرنا مکمل طور پر غیر قانونی تصور ہوگا اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ اگر کہیں بھی مقررہ قیمت سے زائد پر پیٹرول کی فروخت دیکھی جائے تو ثبوت کے طور پر اس کی ویڈیو بنا کر متعلقہ ڈپٹی کمشنر آفس میں فوری شکایت درج کروائی جائے۔

دوسری جانب جماعت اسلامی بلوچستان کے جنرل سیکرٹری مرتضیٰ خان کاکڑ نے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے صوبے بھر میں پیٹرول مافیا کے خلاف فوری اور سخت ترین ایکشن کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والوں میں وہ عناصر بھی شامل ہیں جو پاکستانی پیٹرول کے نام پر ایرانی پیٹرول فروخت کر رہے ہیں۔

مرتضیٰ خان کاکڑ کا کہنا تھا کہ حکومت نے ایرانی پیٹرول کی سرکاری قیمت 280 روپے مقرر کی تھی لیکن اس کے باوجود کوئٹہ سمیت متعدد اضلاع میں یہی پیٹرول 450 سے 500 روپے فی لیٹر تک فروخت کیا جا رہا ہے جو کھلی لوٹ مار اور عوام کا شدید استحصال ہے۔

مقامہ سطح پر جاری اس صورتحال کے ساتھ ساتھ عالمی منڈی میں بھی خام تیل کی قیمتوں میں یکدم بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے جس کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی تازہ کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ واقعات ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ کی جانب سے ایران کے قشم جزیرے پر حملوں اور جواب میں ایران کی طرف سے کویت اور بحرین پر میزائل و ڈرون حملوں کے بعد خطے میں حالات انتہائی کشیدہ ہو چکے ہیں جبکہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی مذاکرات میں بھی کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

ان سنگین حالات کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں 1 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 1.05 ڈالر بڑھ کر 97.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

اسی طرح امریکی خام تیل (WTI) کی قیمت بھی 1.01 ڈالر اضافے کے بعد 95 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے جبکہ اماراتی مربن تیل کی قیمت 96 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہی ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مقامی سطح پر بھی دکھائی دے سکتے ہیں۔

Scroll to Top