ایک بہت عام عادت جو آپ کو جوڑوں کے درد کا مریض بنا سکتی ہے

واشنگٹن: جوڑوں کے درد میں مبتلا افراد کے لیے ایک نئی طبی تحقیق نے تشویشناک انکشاف کیا ہے کہ ناقص یا کم نیند جوڑوں کے امراض کے خطرے میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ ہڈیاں کمزور ہونا اور یورک ایسڈ کا جمع ہونا جوڑوں کے درد کی عام وجوہات میں شمار کیا جاتا ہے۔

عام طور پر یورک ایسڈ خون میں تحلیل ہو کر گردوں کے ذریعے جسم سے خارج ہو جاتا ہے، تاہم جب اس کی مقدار بڑھ جائے تو گردے اسے مکمل طور پر خارج کرنے میں ناکام رہتے ہیں، جس کے نتیجے میں یہ جوڑوں میں کرسٹل کی شکل میں جمع ہو کر درد اور سوزش کا باعث بنتا ہے۔

جوڑوں کے امراض کی مختلف اقسام ہوتی ہیں جن میں ورم (سوزش) ایک اہم عنصر کے طور پر شامل ہوتا ہے۔ تاہم حالیہ تحقیق میں ایک اور اہم وجہ سامنے آئی ہے جس پر پہلے زیادہ توجہ نہیں دی گئی تھی۔

امریکا کی واشنگٹن یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نیند کی کمی یا خراب نیند جوڑوں کے امراض کے خطرے کو نمایاں طور پر بڑھا دیتی ہے، جبکہ نائٹ شفٹ میں کام کرنے والے افراد بھی زیادہ خطرے کی زد میں ہوتے ہیں۔

یہ تحقیق تقریباً 5 لاکھ افراد کے ڈیٹا پر مشتمل تھی جو یوکے بائیو بینک سے حاصل کیا گیا۔ اس میں عمر، موٹاپا اور ماضی کی انجری جیسے روایتی عوامل کے ساتھ نیند کے اثرات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : ایران کے ساتھ معاہدہ قریب؟ ٹرمپ نے بڑی پیش رفت کا اشارہ دے دیا

نتائج کے مطابق جو افراد روزانہ 6 گھنٹے سے کم نیند لیتے ہیں یا بار بار نیند سے جاگ جاتے ہیں، ان میں خاص طور پر گھٹنوں کے درد کا خطرہ 40 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح نائٹ شفٹ کرنے والے افراد میں یہ خطرہ 24 فیصد زیادہ پایا گیا۔

محققین کے مطابق نیند جسم کی اندرونی مرمت، ورم اور درد کی حساسیت کو متاثر کرتی ہے، جو کہ جوڑوں کے امراض میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ ابتدا میں جو افراد جوڑوں کے درد سے محفوظ تھے، مگر ناقص نیند کے باعث ان میں بعد میں اس بیماری کے امکانات بڑھ گئے۔

محققین نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ بہتر نیند جوڑوں کے امراض سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ یہ تحقیق جرنل Arthritis Care Research میں شائع ہوئی ہے۔

Scroll to Top