خیبرپختونخوا میں قائم پناہ گاہیں بند کرنے کا فیصلہ،ملازمین کو فارغ کرنے کے نوٹس جاری

شاہد جان
خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں قائم 10 پناہ گاہیں 30 جون سے بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پناہ گاہوں میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کو بھی فارغ کیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں محکمہ سماجی بہبود نے 52 ملازمین کو خدمات کے خاتمے کے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

محکمہ سماجی بہبود کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق یہ اقدام صوبائی ترقیاتی منصوبے “ہر ڈویژنل ہیڈکوارٹر میں پناہ گاہوں کے قیام اور 11 موجودہ سراؤں کی بحالی” کی تکمیل اور 30 جون 2026 کو منصوبے کی مدت ختم ہونے کے باعث کیا جا رہا ہے۔

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ منصوبہ بند پالیسی 2022 کے تحت منصوبے کی مدت مکمل ہونے پر متعلقہ ملازمین کی خدمات بھی ختم تصور ہوں گی۔متاثرہ ملازمین کا تعلق ایبٹ آباد، بنوں، چارسدہ، ڈی آئی خان، کوہاٹ، مردان، پشاور، مانسہرہ، سوات اور صوابی سے ہے۔ ان میں وارڈن، کیئر ٹیکر، جونیئر کلرک، ڈرائیور، چوکیدار، مرد و خواتین اٹینڈنٹس اور سویپرز شامل ہیں۔

خیبرپختونخوا میں پناہ گاہوں کا قیام 2019 میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں سابق وزیراعظم عمران خان کے فلاحی ریاست کے وژن کے تحت عمل میں آیا تھا۔ اس منصوبے کے تحت صوبے کے مختلف اضلاع میں پناہ گاہیں قائم کی گئیں تاکہ بے گھر افراد، مسافروں اور مزدور طبقے کو رہائش اور خوراک کی سہولت فراہم کی جا سکے۔

بعد ازاں نگران دور حکومت میں متعدد پناہ گاہیں فنڈز اور انتظامی مسائل کے باعث غیر فعال ہو گئیں تاہم 2024 میں پی ٹی آئی حکومت کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے پناہ گاہوں کی بحالی، اپ گریڈیشن اور فنڈز کی فراہمی کے احکامات جاری کیے تھےتاہم اب منصوبے کی مدت مکمل ہونے کے بعد صوبائی حکومت نے ان پناہ گاہوں کو بند کرنے اور منصوبے کے تحت تعینات عملے کی خدمات ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

Scroll to Top