انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے اجتماعی اقدامات ناگزیر ہیں، فیصل کریم کنڈی

اسلام آباد: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے دہشت گردی، دہشت گردی کی مالی معاونت اور پرتشدد انتہاپسندی کے خلاف مؤثر اور مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ چیلنجز محض سیکیورٹی مسائل نہیں بلکہ سماجی ہم آہنگی، اقتصادی ترقی اور ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

اسلام آباد میں سسٹین ایبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او) کے ہیڈکوارٹرز کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی سے نمٹنے کے لیے صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں کافی نہیں بلکہ مؤثر پالیسی سازی، مضبوط اداروں اور کمیونٹی کی فعال شمولیت بھی ناگزیر ہے۔

فیصل کریم کنڈی نے پارلیمنٹیرینز اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ ایس ایس ڈی او کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ تنظیم آگاہی بڑھانے، پالیسی مکالمے کو فروغ دینے اور شواہد پر مبنی فیصلہ سازی کے ذریعے اداروں اور قیادت کی معاونت کر رہی ہے تاکہ بدلتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

انہوں نے پائیدار امن کے قیام کے لیے وفاقی، صوبائی اور مقامی اداروں کے درمیان مؤثر رابطے، معلومات کے تبادلے اور مشترکہ حکمت عملی پر مبنی “پورے حکومتی نظام” کے نکتہ نظر کو ضروری قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں : ایران کے پاس معاہدے کے سوا کوئی راستہ نہیں، ٹرمپ کا بڑا دعویٰ

گورنر خیبرپختونخوا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سول سوسائٹی، تعلیمی اداروں، مذہبی رہنماؤں، میڈیا، نوجوانوں، خواتین اور مقامی برادریوں کی شمولیت پر مبنی “پورے معاشرے” کا نقطہ نظر اختیار کیے بغیر انتہاپسندی کے چیلنج کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔

فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ انتہاپسندانہ بیانیے کا مؤثر مقابلہ کرنے اور ایک محفوظ و خوشحال مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے اجتماعی کاوشیں، مسلسل تعاون اور مکالمہ ناگزیر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مشترکہ اقدامات کے ذریعے نہ صرف مضبوط معاشرے تشکیل دیے جا سکتے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو انتہاپسندانہ نظریات کے منفی اثرات سے بھی محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

Scroll to Top