ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جسم مضبوط بنانے والی ورزشیں نہ صرف مسلز بنانے میں مدد دیتی ہیں بلکہ لمبی اور صحت مند زندگی کے حصول میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
برٹش جرنل آف اسپورٹس میڈیسن میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق باقاعدگی سے جسمانی طاقت بڑھانے والی ورزشیں ہڈیوں کی مضبوطی، جسمانی توازن اور صحت مند وزن برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں، جبکہ جلد موت کے خطرات میں بھی نمایاں کمی آتی ہے۔
تحقیق 30 سال کے طویل عرصے پر محیط تھی جس میں تین بڑے گروپس کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ یہ ڈیٹا 1992 سے 2022، 2002 سے 2021 اور 2003 سے 2021 تک مختلف ادوار میں اکٹھا کیا گیا۔ مجموعی طور پر 1 لاکھ 47 ہزار سے زائد افراد کو شامل کیا گیا، جن سے ہر دو سال بعد ان کی جسمانی سرگرمیوں سے متعلق سوالنامے لیے گئے۔
نتائج کے مطابق جو افراد ہفتے میں 90 سے 120 منٹ تک جسم مضبوط بنانے والی ورزشیں کرتے رہے، ان میں کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ 13 فیصد تک کم پایا گیا۔
اسی طرح دل کی بیماریوں سے اموات کا خطرہ 19 فیصد، اعصابی امراض سے 27 فیصد اور کینسر سے موت کا خطرہ 9 سے 12 فیصد تک کم دیکھا گیا۔
محققین کے مطابق یہ ورزشیں پش اپس، وزن اٹھانے اور اسکواٹس جیسی سرگرمیوں پر مشتمل ہوتی ہیں، جبکہ ایروبک ورزشیں جیسے تیز چہل قدمی، دوڑ، تیراکی اور سائیکلنگ دل اور سانس کے نظام کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ کا ایران کو مشورہ، آپ نے میزائل داغ دیے بس اتنا کافی ہے، امید ہے اسرائیل جوابی کارروائی نہ کرے
تحقیق میں بتایا گیا کہ مجموعی طور پر ہفتے میں ڈیڑھ سے دو گھنٹے کی جسمانی ورزش صحت کو بہتر بنانے اور زندگی کی مدت بڑھانے کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔
ماہرین نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے براہ راست وجہ کا حتمی تعین نہیں کیا جا سکتا، تاہم نتائج اس بات کی واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ جسمانی ورزشیں صحت پر مثبت اثر ڈالتی ہیں۔
اس سے قبل ہونے والی مختلف تحقیقات میں بھی یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ جسمانی ورزش بلڈ پریشر، نقصان دہ کولیسٹرول، خون کے بہاؤ، انسولین کی حساسیت اور دل کی صحت کو بہتر بناتی ہے، جبکہ ہڈیوں کی مضبوطی اور دماغی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔





