تحریک انصاف سوشل میڈیا کا نیا پروپیگنڈا، راولاکوٹ میں انتشار پھیلانے کی مبینہ کوشش بے نقاب

پی ٹی آئی کے بھگوڑے قاسم سوری اور دیگر کئی رہنمائوں کی جانب سے ایک جھوٹی ویڈیو پر پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے اور اس کی لوکیشن بھی مظفرآباد بتائی جا رہی ہے، مظفرآبا دمیں بیٹھا شرپسند بتا رہا ہے کہ راولاکوٹ میں سیکڑوں افراد کو شہید کیا جاچکا ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک نامعلوم شخص کی ویڈیو شیئر کی جا رہی ہے جس میں راولاکوٹ میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور فائرنگ کے دعوے کیے گئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں موجود شخص اپنی شناخت ظاہر نہیں کرتا اور عوام کو احتجاج اور ردعمل کے لیے متحرک کرنے کی اپیل کرتا دکھائی دیتا ہے۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ ویڈیو مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے وسیع پیمانے پر شیئر کی جا رہی ہے، جبکہ اس کی لوکیشن کے حوالے سے بھی مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔ سکیورٹی حکام کا مؤقف ہے کہ ویڈیو میں کیے گئے متعدد دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔

اعلیٰ سکیورٹی ذرائع کے مطابق راولاکوٹ شہر میں رات ساڑھے آٹھ بجے کے بعد صورتحال مکمل طور پر معمول کے مطابق رہی اور اس دوران کسی قسم کی فائرنگ یا ہنگامہ آرائی پیش نہیں آئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر میں نہ کرفیو نافذ کیا گیا اور نہ ہی کسی بڑے تصادم کی اطلاع موصول ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں : راولا کوٹ واقعہ پرامن احتجاج نہیں بلکہ منظم دہشتگردانہ کارروائی ہے، آئی جی آزاد کشمیر

سکیورٹی ذرائع کے مطابق حالیہ جھڑپوں کے دوران پولیس اور فیڈرل کانسٹیبلری کے اہلکار متاثر ہوئے، جن میں ایک سب انسپکٹر سمیت متعدد اہلکار زخمی اور بعض شہید ہوئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دو شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں، تاہم سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے وسیع جانی نقصان کے دعووں کی تصدیق نہیں ہوئی۔

ذرائع نے الزام عائد کیا کہ بعض سیاسی اور دیگر عناصر کی جانب سے سوشل میڈیا پر صورتحال کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے، جس سے عوام میں خوف و ہراس پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ سکیورٹی حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ غیر مصدقہ معلومات پر یقین کرنے کے بجائے مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ راولاکوٹ میں امن و امان کی صورتحال قابو میں ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے حالات پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

Scroll to Top