خیبر پختونخوا خصوصاً پشاور میں گندم کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری ہے، جس نے عوام اور آٹا صنعت سے وابستہ حلقوں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق 40 کلوگرام گندم کی قیمت مزید 100 روپے بڑھنے کے بعد 11 ہزار 600 روپے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ڈیڑھ ماہ قبل یہی قیمت تقریباً 10 ہزار روپے فی 40 کلوگرام تھی۔ اس طرح مختصر عرصے میں گندم کی قیمت میں مجموعی طور پر 1600 روپے تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
حیران کن طور پر نئی گندم کی فصل مارکیٹ میں آنے کے باوجود قیمتوں میں کمی کے بجائے مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس نے مارکیٹ کے ماہرین اور عوامی حلقوں میں کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ عام طور پر نئی فصل کے بعد رسد بڑھنے سے قیمتوں میں استحکام یا کمی واقع ہوتی ہے، تاہم اس بار صورتحال اس کے برعکس ہے۔
ذرائع کے مطابق بعض بڑے ڈیلرز اور ذخیرہ اندوزوں نے کروڑوں روپے مالیت کی گندم گوداموں میں محفوظ کر رکھی ہے، جس کے باعث مارکیٹ میں طلب اور رسد کا توازن بگڑ گیا ہے۔
آٹا ملز مالکان کا کہنا ہے کہ خام مال مہنگا ہونے سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے اثرات نہ صرف آٹے بلکہ دیگر غذائی اشیاء کی قیمتوں پر بھی پڑ رہے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں آٹے کے نرخ بھی بڑھنا شروع ہو گئے ہیں۔
دوسری جانب نانبائیوں اور تندور مالکان نے بھی بڑھتی ہوئی لاگت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کاروبار چلانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔





