حکومت کی نااہلی یا کچھ اور !45 کروڑ منظور، صرف ڈیڑھ کروڑ جاری، پشاور کے 8 حلقے ترقیاتی فنڈز سے محروم

حکومت کی نااہلی یا کچھ اور !45 کروڑ منظور، صرف ڈیڑھ کروڑ جاری، پشاور کے 8 حلقے ترقیاتی فنڈز سے محروم

خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے آٹھ صوبائی حلقوں کے عوام ترقیاتی منصوبوں سے محرومی کا شکار ہیں، جہاں رواں مالی سال کے دوران کروڑوں روپے کے فنڈز مختص ہونے کے باوجود ترقیاتی کام شروع نہ ہو سکے۔

ذرائع کے مطابق پشاور کے ان آٹھ حلقوں سے مسلم لیگ (ن)، عوامی نیشنل پارٹی، پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹرینز کے امیدوار کامیاب ہو کر خیبرپختونخوا اسمبلی پہنچے تھے، تاہم ان حلقوں میں ترقیاتی منصوبے تاحال تعطل کا شکار ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال میں ان حلقوں کے لیے مجموعی طور پر 45 کروڑ 45 لاکھ روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص کیے گئے تھے، لیکن مالی سال اختتام کے قریب پہنچنے کے باوجود صرف ڈیڑھ کروڑ روپے جاری کیے گئے، جو مجموعی منظور شدہ فنڈز کا محض 3 فیصد بنتے ہیں۔

عام انتخابات کے بعد فارم 45 اور فارم 47 سے متعلق سیاسی تنازع اور انتخابی نتائج پر اعتراضات نے سیاسی ماحول کو گرما دیا، تاہم ذرائع کے مطابق اس کشمکش کا اصل نقصان ان حلقوں کے عوام کو اٹھانا پڑ رہا ہے، جو بنیادی سہولیات اور ترقیاتی منصوبوں سے محروم ہیں۔

فنڈز کے اجراء میں تاخیر کے باعث متعدد منصوبے شروع ہی نہ ہو سکے، جبکہ کئی ترقیاتی سکیمیں صرف کاغذوں تک محدود رہ گئیں۔ متاثرہ علاقوں کے عوام کا کہنا ہے کہ سڑکوں کی تعمیر، نکاسی آب، گلیوں کی مرمت اور دیگر بنیادی منصوبوں کی عدم تکمیل سے روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے۔

شہریوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر عوامی فلاح کے منصوبوں کے لیے مختص فنڈز فوری طور پر جاری کیے جائیں تاکہ پسماندہ علاقوں کے عوام کو درپیش مشکلات کا ازالہ کیا جا سکے۔

Scroll to Top