کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے پیچھے کون؟ وفاقی وزیر کے سنسنی خیز انکشافات

اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی “تاریں کہیں اور سے ہل رہی ہیں” اور اس حوالے سے آڈیوز بھی سامنے آ رہی ہیں جن سے اصل کرداروں کا پتا چل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 35 مطالبات تسلیم کیے جا چکے ہیں، جن میں بجلی 3 روپے فی یونٹ اور آٹا 2 ہزار روپے میں فراہم کرنا شامل ہے، اس کے باوجود مزید مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔

اعظم نذیر تارڑ کے مطابق کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ بھی کیا گیا، جس پر آزاد کشمیر میں اے پی سی ہوئی اور فیصلہ کیا گیا کہ آئینی ترمیم کا اختیار اسمبلی کے پاس ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ معاملہ سپریم کورٹ میں بھی زیر غور آیا جہاں اگلی اسمبلی کو فیصلہ کرنے کا کہا گیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے پیچھے بیرونی اثرات ہونے کے شواہد مل رہے ہیں اور بھارت کو جو جواب دیا گیا وہ اسے برداشت نہیں ہو رہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئین کے آرٹیکل 164 کے تحت وفاق صوبوں سے وسائل کا حصہ طلب کر رہا ہے، جبکہ تحریک انصاف کی سابق حکومت پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ انہوں نے “بارودی سرنگیں” چھوڑیں۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ حکومت چیف الیکشن کمشنر کی تقرری پر بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم اپوزیشن کو وزیراعظم کے ساتھ بیٹھ کر مذاکرات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے مطالبات کا قانونی طریقہ موجود ہے اور اس پر اسی کے مطابق عمل ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری

دوسری جانب وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے قیام کے بعد سے خطے میں کشیدگی اور ہنگامہ آرائی جاری ہے۔ ان کے مطابق ماضی کے احتجاج میں جانی نقصان بھی ہوا اور حکومت نے ہر ممکن مذاکرات کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے بعض مطالبات، خصوصاً مہاجرین کی نشستوں کے حوالے سے، حکومت کے مینڈیٹ میں نہیں آتے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ انتہائی حساس ہے اور کسی بھی یکطرفہ فیصلے کے خطرناک نتائج ہو سکتے ہیں۔

طارق فضل چوہدری نے مزید کہا کہ 12 نشستوں کے خاتمے کا فیصلہ نہ پیپلز پارٹی اور نہ ہی حکومت کے لیے قابل قبول ہے، اور وزیراعظم آزاد کشمیر کو مذاکرات کا اختیار دیا گیا ہے تاکہ حالات کو مزید بگڑنے سے بچایا جا سکے۔

Scroll to Top