آئی جی خیبر پختونخوا کا جی آئی کے آئی ٹوپی کا دورہ، جدید ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے ضلع صوابی میں واقع غلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (جی آئی کے آئی) ٹوپی کا دورہ کیا۔

 دورے کا مقصد جدید ٹیکنالوجی، سائبر سیکیورٹی، مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور ڈرون ٹیکنالوجی کے شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینا تھا۔

انسٹی ٹیوٹ آمد پر ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر فضل احمد خالد، پرو ریکٹرز، ڈینز، شعبہ جات کے سربراہان اور سینئر فیکلٹی ممبران نے آئی جی پی خیبر پختونخوا اور ان کے ہمراہ آنے والے وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔

اس موقع پر ریجنل پولیس آفیسر مردان قاسم علی خان، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر صوابی وقاص رفیق، پرنسپل ایلیٹ ٹریننگ سینٹر شبیہ حسین اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

دورے کے دوران خیبر پختونخوا پولیس اور انسٹی ٹیوٹ کی قیادت کے مابین ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے کی۔

اجلاس میں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ پولیسنگ، سائبر کرائم کی روک تھام، ڈیجیٹل فرانزک اور سائنسی تحقیق میں مشترکہ تعاون کے مجوزہ پلان کا جائزہ لیا گیا۔

اس موقع پر خیبر پختونخوا پولیس اور جی آئی کے آئی کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی کیے گئے۔ پولیس کی جانب سے ڈی آئی جی آئی ٹی رائے اعجاز احمد نے معاہدے پر دستخط کیے۔

معاہدے کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پولیس کی استعداد کار میں اضافہ، تحقیق و ترقی کے مشترکہ منصوبوں کا آغاز اور سائنسی وسائل سے استفادہ کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا پولیس کو جدید گاڑیاں، اسلحہ اور حفاظتی سامان فراہم، آئی جی ذوالفقار حمید کا عزم

آئی جی پی نے انسٹی ٹیوٹ کی سائبر سیکیورٹی، روبوٹکس، مصنوعی ذہانت، ڈرون ٹیکنالوجی اور اے آر/وی آر لیبارٹریز کا بھی دورہ کیا اور سہولیات کو سراہا۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ جدید دور میں ٹیکنالوجی کے بغیر مؤثر پولیسنگ ممکن نہیں، خیبر پختونخوا پولیس جرائم کی روک تھام، عوامی تحفظ اور سروس ڈیلیوری کو بہتر بنانے کے لیے جدید سائنسی و تکنیکی ذرائع سے استفادہ کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ اشتراک ڈرون ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل انویسٹی گیشن کے شعبوں میں پولیس کی صلاحیتوں کو نمایاں طور پر بڑھائے گا اور صوبے میں امن و امان کے قیام میں معاون ثابت ہوگا۔

دورے کے اختتام پر دونوں اداروں نے مستقبل میں تکنیکی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا، جبکہ ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر فضل احمد خالد نے آئی جی پی کو سوینئر اور شیلڈ بھی پیش کی۔

Scroll to Top