گھر بیٹھے ڈالرز کمانے کا ایک نیا آن لائن رجحان تیزی سے سامنے آ رہا ہے، مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تربیت کے لیے روزمرہ انسانی سرگرمیوں کی ویڈیوز بنا کر آمدن حاصل کی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اے آئی ٹیکنالوجی جہاں ایک جانب روایتی ملازمتوں کے مستقبل پر سوالات اٹھا رہی ہے وہیں دوسری طرف یہ عام افراد کے لیے کمائی کے نئے مواقع بھی پیدا کر رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق بھارت میں ہزاروں افراد گھروں، فیکٹریوں اور خصوصی اسٹوڈیوز میں ایسی ویڈیوز ریکارڈ کر رہے ہیں جو مستقبل میں روبوٹس کو انسانی انداز میں کام سکھانے کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔
خبر رساں ادارے الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی بھارتی شہر چنئی کی 25 سالہ ناگیریڈی سری رامیاچندرا بھی ان افراد میں شامل ہیں جو گھر بیٹھ کر اے آئی سسٹمز کے لیے ڈیٹا تیار کر رہی ہیں، وہ اپنے سر پر اسمارٹ فون یا کیمرا لگا کر روزمرہ گھریلو کاموں جیسے آم کاٹنے، کھانا بنانے اور دیگر سرگرمیوں کی ویڈیو ریکارڈنگ کرتی ہیں۔
ان سرگرمیوں کے بدلے انہیں ایک گھنٹے کی ریکارڈنگ پر تقریباً 731 پاکستانی روپے (250 بھارتی روپے یا 2.6 امریکی ڈالر) ادا کیے جاتے ہیں۔ بظاہر معمولی نظر آنے والی یہ ویڈیوز عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے انتہائی قیمتی ڈیٹا تصور کی جاتی ہیں کیونکہ ان کی مدد سے روبوٹس انسانی حرکات و سکنات کو سمجھنے اور نقل کرنے کے قابل بنتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق چیٹ بوٹس اور تصویری ماڈلز تو پہلے ہی انٹرنیٹ ڈیٹا سے سیکھ رہے ہیں، تاہم حقیقی دنیا میں کام کرنے والے روبوٹس کی تربیت کے لیے زیادہ پیچیدہ اور عملی ڈیٹا درکار ہوتا ہے، اسی مقصد کے لیے ’’ایگو سینٹرک ڈیٹا‘‘ یعنی انسان کی نظر سے ریکارڈ کی گئی ویڈیوز جمع کی جا رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کچھ افراد یہ کام گھروں سے کرتے ہیں جبکہ بعض فیکٹریوں یا خصوصی مراکز میں ویڈیو گلاسز، سر پر نصب کیمروں اور موشن سینسرز کے ذریعے ڈیٹا ریکارڈ کرتے ہیں۔ بعد ازاں یہ مواد مختلف ڈیٹا ایپس کے ذریعے اے آئی کمپنیوں کو ارسال کیا جاتا ہے، جن کے کلائنٹس میں بڑی بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔
اے آئی انڈسٹری کے ماہرین کا کہنا ہے کہ انسان نما روبوٹس کی عالمی مارکیٹ تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اندازوں کے مطابق 2050 تک ایک ارب سے زائد روبوٹس استعمال میں آ سکتے ہیں۔ اس بڑھتی ہوئی طلب کے باعث اے آئی تربیت کے لیے ڈیٹا کی ضرورت بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایپل کمپنی کا بڑا منصوبہ، نئی اے آئی ڈیوائس سے متعلق حیران کن خبر
ڈیجیٹل لیبر ماہرین کے مطابق جیسے جیسے اے آئی سسٹمز زیادہ پیچیدہ ہو رہے ہیں، ویسے ویسے انہیں حقیقی انسانی سرگرمیوں سے متعلق ڈیٹا کی مزید ضرورت پیش آئے گی، ماہرین اس رجحان کو مواقع کے ساتھ ساتھ ممکنہ خدشات سے بھی جوڑ رہے ہیں۔
بھارت کے نیتی آیوگ تھنک ٹینک کی ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اے آئی کے اثرات پر زیادہ تر بحث دفتری ملازمتوں تک محدود ہے جبکہ غیر رسمی شعبے کے کارکنان پر اس کے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اسی تناظر میں بعض افراد، جیسے بنگلورو کی 55 سالہ پونی، بھی اے آئی تربیت کے لیے اپنی روزمرہ سرگرمیوں کی ویڈیوز ریکارڈ کروا رہی ہیں، انہیں خدشہ ہے کہ مستقبل میں یہی مہارتیں روبوٹس کی تربیت کا حصہ بن کر انسانی روزگار پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔





