کامران علی شاہ
جمعیت علماء اسلام (ف) کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عطاء الرحمن نے واضح کیا ہے کہ کل 18 جون کو چارسدہ کی سرزمیں پر ہونے والا عوامی اجتماع ہر صورت مقررہ وقت پر ہوگا۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےانہوں نے کارکنوں کو مختلف پیغامات کے ذریعے ملنے والی التوا کی افواہوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تمام تیاریاں مکمل ہیں اور کارکن کسی پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں۔
مولانا عطاء الرحمن کا کہنا تھا کہ انتظامیہ اور مختلف ذرائع سے اجتماع کو موخر کرنے یا جگہ تبدیل کرنے کے لیے رابطے کیے جا رہے ہیں لیکن جے یو آئی نے ایک ماہ کی مسلسل محنت اور اضلاع کے دوروں کے بعد یہ پروگرام ترتیب دیا ہےاس لیے جگہ کی تبدیلی یا التوا ممکن نہیں۔
صوبائی امیر نے بتایا کہ “مولانا ادریس شہید” کے نام سے منسوب اس اجتماع کے لیے انصار الاسلام کے 3 ہزار سے زائد رضا کار خدمات کے لیے چارسدہ پہنچ چکے ہیں جبکہ صوبے بھر کے علاوہ پنجاب سے بھی مہمان اس میں شرکت کریں گے۔ یہ اجتماع دوپہر 3 بجے شروع ہو کر رات 10 بجے تک جاری رہے گا۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں جے یو آئی کو زور زبردستی باہر نکالا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : چارسدہ جے یو آئی (ف) کانفرنس سے پہلے خطرے کی اطلاع، سیکیورٹی ادارے ہائی الرٹ
پریس کانفرنس کے دوران مولانا عطاء الرحمن نے مولانا ادریس شہید کے قاتلوں کی عدم گرفتاری پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بارہا بتایا گیا کہ قاتل گرفتار ہو چکے ہیں، مگر ذمہ داران نے ابھی تک انہیں سامنے نہیں لایا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریاست کا کام قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانا ہے ہمیں قاتل زندہ حالت میں دکھائے جائیں اور کیس کی اصل نوعیت سے آگاہ کیا جائے۔





