اسلام آباد: نئے مالی سال کے فنانس بل میں تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس کے نئے سلیب متعارف کرا دیے گئے ہیں، جن کا اطلاق یکم جولائی سے ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق نئے مالی سال کے فنانس بل کا حتمی مسودہ آج قومی اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ بل میں تنخواہ دار طبقے کی آمدن کے حساب سے نئے انکم ٹیکس سلیب شامل کیے گئے ہیں۔
نئے سلیب کے تحت سالانہ 6 لاکھ روپے تک آمدن رکھنے والے افراد کو انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
فنانس بل کے مطابق سالانہ 6 سے 12 لاکھ روپے آمدن رکھنے والوں پر ایک فیصد ٹیکس عائد ہوگا، جبکہ 12 سے 22 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والوں کے لیے 6 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس اور اضافی رقم پر 11 فیصد ٹیکس مقرر کیا گیا ہے۔
اسی طرح 22 سے 32 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والوں پر ایک لاکھ 16 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس اور اضافی رقم پر 20 فیصد ٹیکس ہوگا، جو پہلے 23 فیصد تھا۔
یہ بھی پڑھیں : بجٹ پاس نہ کرتے تو خیبر پختونخوا کا نظام رک جاتا، سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی
بل کے مطابق 32 سے 41 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والوں پر 3 لاکھ 46 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس اور اضافی رقم پر 25 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔
41 سے 56 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والوں کے لیے 5 لاکھ 41 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس اور اضافی رقم پر 29 فیصد ٹیکس مقرر کیا گیا ہے۔
فنانس بل کے تحت 56 سے 70 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والوں پر 9 لاکھ 76 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس اور اضافی رقم پر 32 فیصد جبکہ 70 لاکھ روپے سے زائد سالانہ آمدن رکھنے والوں پر 14 لاکھ 24 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس اور اضافی رقم پر 35 فیصد انکم ٹیکس عائد ہوگا۔





