پاکستان اور خطے کے خلاف سالانہ اربوں ڈالر کے فنڈز سے انفارمیشن وارفیئراور زہریلا پروپیگنڈا کرنے والا بھارتی وزارتِ دفاع کا سب سے بڑا مرکز “ڈائریکٹوریٹ آف پبلک ریلیشنز” (ڈی پی آر) اپنی ہی حساس معلومات کی سیکیورٹی برقرار رکھنے میں بری طرح ناکام ہو گیا ہے۔
اس پروپیگنڈا سیل کی انتہائی خفیہ اندرونی دستاویزات اور آپریشنل تفصیلات لیک ہو کر منظرِ عام پر آگئی ہیں۔
دستاویزات کے مطابق نئی دہلی میں قائم اس ادارے کا نیٹ ورک کتنا وسیع ہے۔ ڈی پی آر کا سربراہ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (اسٹریٹجک کمیونیکیشن) ہے، جو بھارتی افواج کے مرکزی ترجمان کا لبادہ اوڑھ کر دراصل اس پروپیگنڈا مشینری کو چلاتا ہے۔ یہ ادارہ بھارت بھر میں اپنے 25 علاقائی دفاتر اور آرمی، نیوی اور ایئر فورس کے خصوصی یونٹس کے ذریعے کام کرتا ہے۔
لیک ہونے والے ڈیٹا کے مطابق اس نیٹ ورک کے پاس 10 ہزار سے زائد ملازمین کی فوج موجود ہے، جس میں ڈیجیٹل میڈیا کے ماہرین، ڈیٹا اینالسٹ، نفسیاتی جنگ کے تجزیہ کار اور انٹیلیجنس سپورٹ اسٹاف شامل ہیں، جن کا واحد کام دن رات پاکستان مخالف من گھڑت مواد تیار کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : بھارت :وائرل تحریک کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی کا بڑا اعلان
دستاویزات کے مطابق ڈی پی آر کا اوپن بجٹ تقریباً 2 ہزار 882 کروڑ بھارتی روپے (305 ملین ڈالر) ہے لیکن پاکستان کے خلاف پوشیدہ اور خطرناک کارروائیوں (Covert Operations) کے لیے مختلف خفیہ اور خفیہ ذرائع سے 6,615 کروڑ روپے (700 ملین ڈالر) اضافی فراہم کیے جاتے ہیں۔ دفاعی تھنک ٹینکس کے فنڈز ملا کر یہ رقم سالانہ 9 ہزار 558 کروڑ بھارتی روپے (تقریباً 1.01 ارب امریکی ڈالر) بنتی ہے۔ یہ خطیر رقم صرف اس بات کے لیے پانی کی طرح بہائی جاتی ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کا امیج خراب کیا جا سکے اور بھارت کی عسکری طاقت کا جھوٹا رعب جمایا جا سکے۔
افشا ہونے والی معلومات نے اس شاطرانہ نیٹ ورک کے کام کرنے کا طریقہ کار بھی دنیا کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ بھارت کی بیرونی انٹیلیجنس ایجنسی “را” (RAW) معلومات اکٹھی کرتی ہے اور پاکستان کی حساسیت کا جائزہ لے کر ایک خام خاکہ تیار کرتی ہے۔ یہ ڈیٹا ڈی پی آر کو منتقل کیا جاتا ہےجہاں ماہرین اسے خبروں اور پریس ریلیز کا روپ دیتے ہیں۔ جیسے ہی ڈی پی آر سے کوئی بیانیہ جاری ہوتا ہے اسے آئی ڈی ایس اے (IDSA) اور سی ایل اے ڈبلیو ایس (CLAWS) جیسے نام نہاد آزاد تھنک ٹینکس کے ذریعے علمی سند دی جاتی ہے اور پھر بھارتی نیشنل ٹی وی چینلز، ڈیجیٹل پورٹلز اور ریٹائرڈ فوجی افسران سوشل میڈیا پر آ کر ایک ہی راگ الاپنا شروع کر دیتے ہیں۔
دستاویزات سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ پورا انفراسٹرکچر “پہلے بیانیہ، ثبوت بعد میں” کی زہریلی پالیسی پر کام کرتا ہے۔ سال 2019 میں پلوامہ اور بالاکوٹ کا ڈرامہ ہو، مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 کا غاصبانہ خاتمہ ہو، یا پھر جعفر ایکسپریس اور پہلگام جیسے واقعات ہوں، بھارت نے کسی بھی آزادانہ تحقیقات سے پہلے ہی اس نیٹ ورک کو متحرک کر کے سارا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی۔ اس کا مقصد پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنا اور مالیاتی اداروں (جیسے ایف اے ٹی ایف) میں بلیک لسٹ کروانے کے لیے نفسیاتی دباؤ بڑھانا ہے۔





