یکم جولائی سے درآمدی گاڑیوں پر نئی ڈیوٹی اور ٹیکس شرح کا اعلان

اسلام آباد: پارلیمنٹ سے منظور شدہ فنانس بل کے تحت یکم جولائی سے گاڑیوں کی مختلف کیٹیگریز پر عائد ٹیکسز اور ڈیوٹی کی شرح میں رد و بدل کر دیا گیا ہے۔

فنانس بل کے مطابق وفاقی حکومت نے درآمدی گاڑیوں پر نئی ڈیوٹی اور ٹیکس شرح کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت 2000 سے 3000 سی سی تک کی درآمدی گاڑیوں پر 86 فیصد ڈیوٹی عائد ہوگی، جبکہ 3001 سی سی یا اس سے بڑی گاڑیوں پر 92 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔

دستاویز کے مطابق مختلف کیٹیگریز کی درآمدی گاڑیوں پر ڈیوٹی اور ٹیکس میں کمی بھی کی گئی ہے۔ 1800 سی سی گاڑیوں پر مجموعی ڈیوٹی اور ٹیکس کی شرح 156 فیصد سے کم کرکے 74 فیصد کر دی گئی ہے۔

اسی طرح 1500 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر ڈیوٹی اور ٹیکس 91 فیصد سے کم کرکے 57 فیصد، جبکہ 1000 سے 1500 سی سی تک کی گاڑیوں پر شرح 76 فیصد سے کم کرکے 52 فیصد کر دی گئی ہے۔

850 سی سی گاڑیوں پر ڈیوٹی اور ٹیکس کی شرح 66 فیصد سے کم کرکے 42 فیصد مقرر کی گئی ہے۔

فنانس بل میں نئی آٹو پالیسی کے تحت 1800 سی سی تک کی گاڑیوں پر اسپیشل ایکسائز ڈیوٹی عائد نہ کرنے کا فیصلہ بھی شامل ہے، جبکہ بڑی الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر 30 سے 40 فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں : سیف سٹی منصوبے کو خیبر پختونخوا کے دیگر اضلاع تک توسیع دینے کا فیصلہ

دستاویزات کے مطابق 75 ہزار ڈالر تک مالیت کی درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر 30 فیصد کسٹم ڈیوٹی جبکہ ایک لاکھ 10 ہزار ڈالر سے زائد مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں پر 40 فیصد کسٹم ڈیوٹی لاگو ہوگی۔

نئے مالیاتی اقدامات کے تحت یکم جولائی سے وفاق میں 1000 سی سی تک کی گاڑیوں پر ایک مرتبہ 10 ہزار روپے فکس ٹیکس عائد کیا جائے گا۔

2010 سے پہلے کے ماڈلز کی 1000 سی سی تک گاڑیوں پر 20 ہزار روپے ٹوکن ٹیکس مقرر کیا گیا ہے، جبکہ 1001 سے 1300 سی سی تک کی گاڑیوں پر ٹوکن ٹیکس مجموعی انوائس مالیت کے 0.3 فیصد کے برابر ہوگا۔

فنانس بل کے مطابق یکم جولائی سے ٹوکن ٹیکس کو مجموعی انوائس مالیت کے 0.25 فیصد کے برابر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ 2010 سے پہلے کے ماڈلز پر 2500 روپے اور 2010 کے بعد کے ماڈلز پر 6200 روپے ٹوکن ٹیکس عائد ہوگا۔

Scroll to Top