اسلام آباد: وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت نے حالیہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کی کوشش کی ہے، جس کے تحت 50 ہزار سے 1 لاکھ روپے ماہانہ آمدن رکھنے والے افراد پر صرف 1 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ نے ٹیکس کلیکشن، بجٹ تجاویز، آئی ایم ایف پروگرام اور ملکی معاشی صورتحال سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔
وفاقی وزیر نے ٹیکس سلیب کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جن افراد کی ماہانہ تنخواہ 50 ہزار روپے یا اس سے کم ہے، ان پر کوئی ٹیکس عائد نہیں ہوگا، جبکہ 50 ہزار سے 1 لاکھ روپے تک ماہانہ تنخواہ لینے والوں کیلئے ٹیکس کی شرح صرف ایک فیصد مقرر کی گئی ہے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا وژن واضح ہے کہ ٹیکس ادا نہ کرنے والے افراد کا بوجھ ایمانداری سے ٹیکس دینے والے شہریوں پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ ان کے مطابق ٹیکس نظام میں بہتری ملکی معیشت کے استحکام کیلئے ضروری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ٹیکس کلیکشن کے نظام کو مؤثر بنانے کیلئے نئے ٹربیونلز قائم کیے گئے ہیں، جبکہ ایف بی آر میں اصلاحات کا عمل بھی جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر کسٹمز اور انکم ٹیکس افسران کی تعیناتی میں سفارش کلچر کا خاتمہ کیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ماضی میں ایف بی آر میں ڈیجیٹلائزیشن کا عمل تعطل کا شکار رہا، تاہم اب نظام کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : مئی 2026 تک کتنے پاکستانی سعودی عرب اور یو اے ای پہنچے؟ اعداد و شمار جاری
عطا تارڑ نے بتایا کہ ٹیکس چوری کے خاتمے کیلئے کارروائیوں کا آغاز شوگر انڈسٹری سے کیا گیا، جہاں پیداوار کی نگرانی کیلئے شوگر ملز سے نکلنے والی ہر بوری پر بار کوڈنگ کا نظام متعارف کرایا گیا۔ ان کے مطابق اس اقدام کے نتیجے میں شوگر ملز سے 60 ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ غیر قانونی تمباکو کی تجارت روکنے کیلئے بھی کارروائیاں کی گئی ہیں اور ٹیکس نظام کو مزید شفاف بنانے کیلئے اقدامات جاری ہیں۔
آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ حکومت نے مشکل معاشی حالات میں ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے کیلئے اقدامات کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی کوششوں سے معاشی استحکام کی راہ ہموار ہوئی۔
وفاقی وزیر نے عوام کو یقین دہانی کرائی کہ موجودہ ریلیف بہت محنت کے بعد ممکن ہوا ہے، اور جیسے ہی معیشت میں مزید گنجائش پیدا ہوگی، عوام کو مزید سہولیات فراہم کی جائیں گی۔





