تیل کی قیمتوں میں پھر زبردست کمی کر دی گئی، صبح صبح شہریوں کیلئے اچھی خبر آگئی

تیل کی قیمتوں میں پھر زبردست کمی کر دی گئی، صبح صبح شہریوں کیلئے اچھی خبر آگئی

امریکا اور ایران کے درمیان عبوری معاہدے کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کی توقع پیدا ہو گئی ہے۔

عالمی منڈی میں جمعرات کے روز ابتدائی کاروبار کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت 89 سینٹ کمی کے بعد 78.66 ڈالر فی بیرل تک آ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 98 سینٹ کمی کے ساتھ 75.81 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہوا۔

معاشی ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور ایرانی تیل کی ممکنہ واپسی سے عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی بڑھنے کا امکان ہے، جس کے باعث قیمتوں پر دباؤ کم ہوا ہے۔ مارکیٹ تجزیہ کار ٹونی سیکامور کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار ایرانی تیل کی متوقع فراہمی کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی ترتیب دے رہے ہیں۔

دوسری جانب عالمی قیمتوں میں حالیہ کمی کے بعد پاکستان میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ توانائی کے شعبے کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں موجودہ سطح کے قریب برقرار رہتی ہیں اور روپے کی قدر میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آتی تو پٹرول کی قیمت میں 30 سے 40 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 35 سے 50 روپے فی لیٹر تک کمی کی گنجائش موجود ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت ٹیکسوں اور پٹرولیم لیوی میں مناسب ردوبدل کے ذریعے عوام کو مزید ریلیف بھی فراہم کر سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق آئندہ پندرہ روزہ قیمتوں کے تعین کے لیے اوگرا اپنی سفارشات وزارتِ خزانہ کو ارسال کرے گا، جس کے بعد وزیراعظم کی مشاورت سے نئی قیمتوں کا اعلان متوقع ہے۔

معاشی حلقوں کا خیال ہے کہ اگر عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار رہا اور حکومت مکمل ریلیف صارفین تک منتقل کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو آئندہ قیمتوں کے اعلان میں پٹرولیم مصنوعات پر 30 سے 50 روپے فی لیٹر تک کمی سامنے آ سکتی ہے۔ تاہم حتمی فیصلے کا انحصار اوگرا کی سفارشات، ڈالر کی قدر، درآمدی لاگت اور حکومتی ٹیکس پالیسی پر ہوگا۔

Scroll to Top