کوہاٹ ،غیر قانونی سونے کی کان کنی کیخلاف کارروائیاں کیوں رک گئیں؟پولیس کے مبینہ آڈیو پیغام نے نئے سوالات کھڑے کر دیے

کوہاٹ ،غیر قانونی سونے کی کان کنی کیخلاف کارروائیاں کیوں رک گئیں؟پولیس کے مبینہ آڈیو پیغام نے نئے سوالات کھڑے کر دیے

سیاسی دباؤ یامفاہمت کوہاٹ پولیس علاقے میں غیر قانونی سونے کی کان کنی کے خلاف کارروائی سے دستبردار ،تفصیلات کے مطابق کوہاٹ کے علاقے گمبٹ اور گردونواح میں جاری مبینہ غیر قانونی سونے کی کان کنی کے خلاف کارروائی کے معاملے پر پولیس کی جانب سے عملی طور پر لاتعلقی اختیار کیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔

پولیس کے ایک اعلیٰ افسر کا مبینہ آڈیو پیغام منظرعام پر آیا ہے جس میں ضلعی پولیس افسران، ایس ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ آئندہ غیر قانونی کان کنی کے معاملات میں براہ راست مداخلت نہ کریں اور نہ ہی کان کنی میں استعمال ہونے والی مشینری یا ایندھن لے جانے والی گاڑیوں کو روکیں۔

آڈیو پیغام میں متعلقہ افسر نے کہا کہ پولیس نے ماضی میں گولڈ مائننگ کے خلاف مؤثر آپریشن کیا تھا جس کے اچھے نتائج سامنے آئے، تاہم اب نئی پالیسی کے تحت پولیس اس معاملے میں خود کارروائی نہیں کرے گی۔ افسر کے مطابق کان کنی سے متعلق معاملات محکمہ معدنیات اور انڈسٹریز ڈیپارٹمنٹ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں اور پولیس صرف اسی صورت کارروائی کرے گی جب متعلقہ محکمہ باضابطہ شکایت، استغاثہ یا معاونت کی درخواست کرے۔

آڈیو پیغام میں افسر نے واضح کیا کہ ہم نے نہ تو ایکسکیویٹرز روکنے ہیں اور نہ ہی تیل کی گاڑیاں پکڑنی ہیں، ہر محکمہ اپنے مینڈیٹ کے مطابق کام کرے، اگر متعلقہ محکمہ شکایت کرے گا تو پولیس مکمل تعاون فراہم کرے گی۔دوسری جانب محکمہ معدنیات اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے غیر قانونی کان کنی کے خلاف کارروائیوں کے دعوؤں کے باوجود گمبٹ اور ملحقہ علاقوں میں غیر قانونی کان کنی کا سلسلہ بدستور جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق متعدد مقامات پر رات کی تاریکی میں سونے کے ذخائر نکالنے کے لیے بھاری مشینری استعمال کی جا رہی ہے جبکہ بعض حلقوں کا دعویٰ ہے کہ بااثر عناصر اور مبینہ سیاسی دباؤ کے باعث غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف مؤثر اور مستقل کارروائی عمل میں نہیں لائی جا رہی۔واضح رہے کہ چند روز قبل محکمہ معدنیات نے غیر قانونی کان کنی کے خلاف کارروائی کے لیے ضلعی انتظامیہ اور پولیس سے معاونت طلب کی تھی، تاہم تازہ آڈیو پیغام سامنے آنے کے بعد یہ سوالات جنم لے رہے ہیں کہ اگر پولیس براہ راست کارروائی سے گریز کرے گی تو غیر قانونی کان کنی کی روک تھام کی ذمہ داری کس حد تک مؤثر انداز میں ادا کی جا سکے گی علاقہ مکینوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ صوبائی حکومت اس معاملے کا نوٹس لے،

غیر قانونی سونے کی کان کنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی یقینی بنائی جائے اور قومی معدنی وسائل کی مبینہ لوٹ مار روکنے کے لیے محکمہ معدنیات، ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ اور مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جائے۔

Scroll to Top