پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبے کا نیا بجٹ سرپلس یا متوازن نہیں بلکہ تقریباً 50 ارب روپے خسارے کا ہوگا۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے بجٹ کی تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس شامل نہیں کیا گیا، اور پہلی بار صوبے کی متوقع آمدن کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک حقیقت پسندانہ بجٹ تیار کیا گیا ہے جو عوامی امنگوں کا عکاس ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا کا بجٹ کل پیش کیا جائیگا، 11 روزہ شیڈول جاری
شوکت یوسفزئی کا مزید کہنا تھا کہ نامساعد معاشی حالات کے باوجود ایک بہتر اور متوازن بجٹ کی تیاری کا پورا کریڈٹ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور صوبائی وزیرِ خزانہ مزمل اسلم کو جاتا ہے۔





