سعودی عرب میں کاروبارکےخواہشمند افراد کیلئے اہم خبر

سعودی عرب کی وزارتِ انسانی وسائل اور سماجی ترقی نے مملکت میں کاروبار کرنے والوں کے لیے ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے ویزا پالیسی اور کاروباری ضابطوں میں اہم تبدیلیوں کا اعلان کر دیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق وزارتِ انسانی وسائل سے منسلک ‘قوی’ پلیٹ فارم کے تحت اب دو سال سے کم مدت والے نئے کاروباری اداروں کے لیے دستیاب فوری ویزوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد کم کر کے صرف پانچ کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب جو کاروباری ادارے دو سال یا اس سے زائد عرصے سے کامیابی سے کام کر رہے ہیں، یا جو نئے ادارے اپنے دو سال کی مدت مکمل کر لیں گے، وہ پچاس تک ویزے حاصل کرنے کے اہل ہوں گے۔ پلیٹ فارم کے مطابق اسٹیبلشمنٹ پروگرام میں داخلہ لینے والے اور مقررہ معیار پر پورا اترنے والے اداروں کو ابتدائی طور پر دو ویزے جاری کیے جائیں گے، جن میں بعد میں سعودائزیشن یعنی مقامی افراد کو روزگار دینے کی شرح بڑھانے پر اضافہ کیا جا سکے گا۔

مذکورہ پلیٹ فارم نے مملکت سے باہر سے غیر سعودی کارکنوں کو بھرتی کرنے کے لیے دس اہم شرائط بھی عائد کی ہیں جن کے تحت کاروباری ادارے کا فعال ہونا، تمام موجودہ ملازمین کے ورک پرمٹ کا درست ہونا اور ادارے کی تجارتی رجسٹریشن کا قانون کے مطابق ہونا لازمی ہے۔ اس کے علاوہ کاروباری اداروں کے لیے اجرت کے تحفظ کے قانون کی تعمیل کرنا اور وزارتِ داخلہ کے پلیٹ فارمز ابشر یا مقیم پر کافی مالی کریڈٹ برقرار رکھنا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : مئی 2026 تک کتنے پاکستانی سعودی عرب اور یو اے ای پہنچے؟ اعداد و شمار جاری

مزید شرائط کے مطابق دس یا اس سے زیادہ ملازمین والے اداروں کے لیے سالانہ خود تشخیص کی شرط پوری کرنا لازم ہوگا، جبکہ کاروباری اداروں کو قوی پلیٹ فارم کے ذریعے ملازمین کی جائے کار کا تعین بھی کرنا ہوگا۔ مزید برآں کاروبار کے مالک کی عمر کم از کم اٹھارہ سال ہونی چاہیے، اداروں کے پاس مطلوبہ ویزے کی قسم کے لحاظ سے بھرتی کا کوٹا دستیاب ہونا چاہیے اور تمام ملازمین کے روزگار کے معاہدے قوی پلیٹ فارم کے ذریعے رجسٹرڈ اور تصدیق شدہ ہونے چاہئیں۔

اس نئی پالیسی کے تحت اب کاروباری اداروں کو تین مختلف اقسام کے ویزے فراہم کیے جائیں گے۔ ان میں پہلا مستقل ورک ویزا ہے جو طویل مدتی روزگار کے معاہدوں کے تحت غیر سعودی ملازمین کے لیے جاری کیا جائے گا۔

دوسری قسم عارضی کام کے ویزے کی ہے جو قلیل مدتی منصوبوں کے لیے تین ماہ یا اس سے کم مدت کے لیے ہوگا، جبکہ تیسری قسم حج اور عمرہ عارضی ویزے کی ہے جو حج اور عمرہ سیزن کے دوران کام کرنے والے عارضی عملے کے لیے مخصوص ہوگا اور یہ وزارت کی خصوصی منظوری کے بعد ہی جاری کیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق ان نئے اقدامات کا بنیادی مقصد سعودی لیبر مارکیٹ کو منظم کرنا اور مقامی شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع کو یقینی بنانا ہے۔

Scroll to Top