اخونزدہ فضل حق
پنجاب کے صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ نے کہا ہے کہ مردان میں گوردوارہ فائرنگ کا افسوسناک واقعہ نہ صرف سکھ برادری کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا باعث بنا بلکہ اس سے عالمی سطح پر پاکستان کا تشخص بھی متاثر ہوا ہے۔
مردان پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تمام اقلیتیں برابر کے حقوق رکھتی ہیں اور ان کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت اقلیتی برادری کو مؤثر تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ سردار رمیش سنگھ نے کہا کہ مقتول سکھ میاں بیوی گوردوارہ کے خادم تھے اور ان کی ہلاکت انتہائی افسوسناک ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ذہنی طور پر غیر موزوں اہلکار کو گوردوارہ میں تعینات کیوں کیا گیا اور اس حوالے سے ذمہ داروں کا تعین کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک بھر کے گوردواروں اور دیگر اقلیتی عبادت گاہوں کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جائے، تمام عبادت گاہوں کا سیکیورٹی آڈٹ کیا جائے اور وہاں تعینات اہلکاروں کی مکمل اسکریننگ یقینی بنائی جائے۔
یہ بھی پڑھیں : مردان: سکھ جوڑے کے ساتھ پیش آئے واقعے کی تحقیقات میں بڑی پیش رفت
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ کیس کے مدعیان اور متاثرہ خاندان کو فوری سیکیورٹی فراہم کی جائے تاکہ انہیں کسی قسم کے خدشات کا سامنا نہ ہو۔
انہوں نے سکھ برادری کے رویے کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی بدنامی سے بچنے کے لیے برادری نے احتجاج کے دوران بھی تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سیاست ضرور کریں، تاہم انہیں اقلیتوں کے تحفظ سے متعلق اٹھنے والے سوالات کا جواب دینا ہوگا۔





