واشنگٹن: امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے 26 جون کو ایران کے خلاف فضائی کارروائی کرتے ہوئے میزائل اور ڈرون ذخیرہ گاہوں سمیت ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی بحری جہاز پر مبینہ حملے کے ردعمل میں کی گئی۔
— U.S. Central Command (@CENTCOM) June 26, 2026
سینٹ کام کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ 25 جون کو ایران نے سنگاپور کے پرچم بردار ایک مال بردار جہاز پر خودکش ڈرون حملہ کیا۔ اس وقت جہاز عمان کے ساحل کے قریب آبنائے ہرمز سے باہر نکل رہا تھا۔
امریکی فوج کے مطابق تجارتی جہاز پر یہ حملہ بلااشتعال تھا اور جنگ بندی کی واضح خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ایران کا یہ اقدام بین الاقوامی تجارت کی اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مودی میں ٹرمپ کی دلچسپی ختم ، امریکی صدر کے قریبی تعلقات اب فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ساتھ ہیں، معروف صحافی فرید زکریا
سینٹ کام کا کہنا ہے کہ امریکی افواج آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے لیے مسلسل رابطے اور معاونت کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ خطے میں بحری آمدورفت متاثر نہ ہو۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی فوج خطے میں مکمل طور پر موجود اور چوکس ہے اور ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی تمام شرائط پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے۔





