ایران کی مرکزی فوجی کمان خاتم الانبیاء نے خلیج کی اہم ترین تجارتی گزرگاہ “آبنائے ہرمز” کو تمام بحری آمدورفت کے لیے مستقل طور پر بند کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
حکام کے مطابق یہ انتہائی قدم امریکا اور اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کے بعد طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی مبینہ خلاف ورزیوں کے جواب میں اٹھایا گیا ہے۔
ہفتے کے روز جاری ہونے والے ایک ہنگامی اور باضابطہ بیان میں خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر نے موقف اختیار کیا ہے کہ امریکا نے جنگ کے خاتمے کے لیے طے شدہ مفاہمتی معاہدے کی پہلی شق کی کھلی خلاف ورزی کی ہے جبکہ دوسری جانب اسرائیل بھی جنوبی لبنان میں جنگ بندی کے معاہدے کو مسلسل پامال کر رہا ہے۔
ایرانی عسکری کمان کا کہنا ہے کہ ان پے در پے اقدامات اور وعدہ خلافیوں کے باعث آبنائے ہرمز کو ہر قسم کے تجارتی بحری جہازوں اور راستوں کے لیے فوری طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
ایرانی عسکری حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ اقدام دشمن قوتوں کی جانب سے کی گئی خلاف ورزیوں کے جواب میں محض “پہلا قدم” ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ ایران امن معاہدہ: وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک رابطہ، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کو خراج تحسین
بیان میں سخت لہجے میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر یہ مبینہ جارحیت اور بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزیاں فوری طور پر بند نہ کی گئیں تو ایران مزید سخت اقدامات اٹھانے سے بھی گریز نہیں کرے گا تاکہ مخالف فریقوں کو اپنی سفارتی و عسکری ذمہ داریاں پوری کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین اور حساس ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں کا دارومدار اسی راستے پر ہے کیونکہ خلیجی ممالک کی تیل اور گیس کی برآمدات کا ایک بہت بڑا حصہ اسی اہم گزرگاہ سے ہو کر دنیا بھر کی مارکیٹوں تک پہنچتا ہے۔
اس بندش کے بعد عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں شدید اضافے اور نئے بحران کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔





