قومی اسمبلی نے وفاقی بجٹ کی منظوری کے دوسرے مرحلے میں مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کے لیے مجموعی طور پر 40 کھرب 48 ارب روپے مالیت کے 89 مطالباتِ زر کثرتِ رائے سے منظور کر لیے۔ مطالباتِ زر کی منظوری کے بعد بجٹ 2026-27 کی منظوری کا ایک اہم مرحلہ مکمل ہو گیا۔
قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کے مطالباتِ زر ایوان میں پیش کیے۔ ایوان نے تفصیلی غور و خوض کے بعد ان مطالبات کی منظوری دے دی۔
منظور شدہ فنڈز کے تحت ایٹمی توانائی کے شعبے کے لیے 22 ارب روپے، نیا پاکستان ہاؤسنگ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے لیے 14 کروڑ روپے، پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے لیے 2 ارب 35 کروڑ روپے جبکہ مواصلات کے مختلف منصوبوں کے لیے اربوں روپے مختص کیے گئے۔
اسی طرح پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ کے لیے 25 ارب روپے، دفاعی امور کے لیے 17 ارب روپے، ماحولیاتی تبدیلی ڈویژن کے لیے 3 ارب 89 کروڑ روپے، خارجہ امور ڈویژن کے لیے 68 ارب 17 کروڑ روپے اور ہاؤسنگ و تعمیرات ڈویژن کے لیے 22 ارب 31 کروڑ روپے کے مطالباتِ زر منظور کیے گئے۔
قومی اسمبلی نے انسانی حقوق ڈویژن، کامرس ڈویژن اور مواصلات ڈویژن کے لیے بھی بڑے پیمانے پر فنڈز کی منظوری دی۔ مواصلات ڈویژن کے پانچ مطالباتِ زر کے تحت ایک کھرب 25 ارب روپے سے زائد جبکہ دفاع اور دفاعی ڈویژن کے لیے 30 کھرب 67 ارب 23 کروڑ روپے سے زائد کے فنڈز منظور کیے گئے، جو مجموعی بجٹ کا سب سے بڑا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
دفاعی پیداوار ڈویژن کے لیے 2 ارب 11 کروڑ روپے، اکنامک افیئرز ڈویژن کے لیے 15 ارب ایک کروڑ روپے جبکہ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے شعبے کے لیے ایک کھرب 21 ارب 26 کروڑ روپے سے زائد کے 9 مطالباتِ زر منظور کیے گئے۔
علاوہ ازیں اطلاعات و نشریات ڈویژن کے لیے 27 ارب 57 کروڑ روپے، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے لیے 42 ارب 7 کروڑ روپے، داخلہ ڈویژن اور اس کے ذیلی اداروں کے لیے 45 ارب 4 کروڑ روپے سے زائد کے فنڈز بھی منظور کر لیے گئے۔
ایوان نے بین الصوبائی رابطہ ڈویژن، امور کشمیر و گلگت بلتستان، قانون و انصاف ڈویژن، میری ٹائم افیئرز، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ، سینیٹ آف پاکستان، وزارت قومی صحت، وزارت پارلیمانی امور اور وزارت منصوبہ بندی کے لیے بھی مختلف مالی مطالبات کی منظوری دی۔
قومی اسمبلی نے نجکاری ڈویژن کے لیے ایک ارب 74 کروڑ روپے سے زائد کے دو مطالباتِ زر کی بھی منظوری دے دی، جس کے بعد بجٹ منظوری کے دوسرے مرحلے کی کارروائی کامیابی سے مکمل ہو گئی۔
پارلیمانی ذرائع کے مطابق مطالباتِ زر کی منظوری کے بعد آئندہ مالی سال کے ترقیاتی، انتظامی اور دفاعی اخراجات کے لیے درکار وسائل کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے گی، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ بجٹ میں معیشت کے استحکام، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور عوامی فلاح و بہبود کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔





