اسلام آباد: نئے مالی سال کے بجٹ کے نفاذ کے بعد پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آگئی ہے۔
یکم جولائی 2026 سے نافذ ہونے والے بجٹ میں مخصوص الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس عائد کیا جائے گا، جبکہ کچھ کیٹیگریز کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں الیکٹرک گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے نفاذ کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں ایف بی آر حکام نے اراکین کمیٹی کو ٹیکس پالیسی سے آگاہ کیا۔
ایف بی آر حکام کے مطابق 75 ہزار ڈالر تک مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد نہیں ہوگی۔ تاہم پاکستانی کرنسی کے حساب سے 2 کروڑ روپے سے زائد قیمت رکھنے والی الیکٹرک گاڑیوں پر یہ ٹیکس لاگو ہوگا۔
حکام نے واضح کیا کہ 2 کروڑ روپے سے کم قیمت کی الیکٹرک گاڑیاں ایف ای ڈی سے مستثنیٰ رہیں گی جبکہ مہنگی اور لگژری الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس لاگو کیا جائے گا۔
اجلاس کے دوران رکن کمیٹی شاہدہ اختر نے الیکٹرک گاڑیوں کے ساتھ چارجنگ اسٹیشنز کی پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ملک میں چارجنگ انفراسٹرکچر کے بغیر الیکٹرک گاڑیوں کا فروغ ایک چیلنج رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بجلی کی صورتحال بھی سب کے سامنے ہے، اس لیے جامع منصوبہ بندی ضروری ہے۔
رکن کمیٹی شرمیلا فاروقی نے کہا کہ حکومت کو الیکٹرک گاڑیوں کے حوالے سے واضح پالیسی اپنانا ہوگی کہ آیا انہیں فروغ دینا ہے یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں : یو اے ای میں پھنسے افراد کے لیے بڑی خوشخبری
انہوں نے کہا کہ ایک طرف الیکٹرک گاڑیوں کو بڑھانے کی بات کی جاتی ہے اور دوسری جانب ان میں بھی لگژری کیٹیگری بنا کر ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے۔
کمیٹی رکن بلال اظہر کیانی نے کہا کہ لگژری الیکٹرک گاڑیوں پر بھی دیگر روایتی گاڑیوں کے مقابلے میں کم ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب حنا ربانی کھر نے ٹیکس پالیسی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الیکٹرک گاڑیاں عام گاڑیوں کے مقابلے میں پہلے ہی کچھ مہنگی ہوتی ہیں، اس لیے ان پر مزید ٹیکس عائد کرنا درست پالیسی نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں الیکٹرک گاڑیوں پر 30 فیصد ڈیوٹی موجود نہیں تھی، جبکہ گاڑیوں کی ٹیکنالوجی میں تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے اور ہر چند ماہ بعد نئی جدت سامنے آ رہی ہے۔
نئے بجٹ کے بعد الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتوں اور استعمال پر ٹیکس پالیسی کے اثرات آنے والے دنوں میں واضح ہونے کا امکان ہے۔





