پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے 9 اور 10 محرم الحرام کے موقع پر امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی کے جامع پلان کو حتمی شکل دے دی ہے۔
منصوبے کے تحت صوبے کے مختلف علاقوں میں موبائل فون سروس جزوی طور پر معطل رکھی جائے گی، جبکہ بعض حساس مقامات پر سروس مکمل طور پر بند کی جائے گی۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق یہ اقدامات مذہبی اجتماعات اور جلوسوں کے دوران عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچاؤ کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
حکام نے صوبے بھر میں 400 امام بارگاہوں کو حساس اور انتہائی حساس قرار دیا ہے۔ اسی طرح 286 جلوسوں کو انتہائی حساس جبکہ 190 جلوسوں کو حساس کیٹیگری میں شامل کیا گیا ہے۔
پشاور میں 9 محرم کے مرکزی جلوس کے دوران موبائل فون سروس جزوی طور پر معطل رہے گی، جبکہ کنٹونمنٹ کے علاقے کو مکمل طور پر سیل کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور: خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں مفت گردہ ٹرانسپلانٹ سروسز کا آغاز، پہلا ٹرانسپلانٹ کامیاب
10 محرم الحرام کے موقع پر شہر کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر خصوصی سیکیورٹی چوکیاں قائم کی جائیں گی اور حفاظتی حصار مزید سخت کیا جائے گا۔
سیکیورٹی پلان کے تحت جلوسوں کے راستوں اور امام بارگاہوں کے اطراف واک تھرو گیٹس نصب کیے جائیں گے، جبکہ نگرانی کے لیے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد لی جائے گی۔ سیکیورٹی فورسز مختلف علاقوں میں سرچ آپریشنز بھی انجام دیں گی۔
عاشورہ کے دوران سیکیورٹی انتظامات کی مؤثر نگرانی کے لیے سول سیکرٹریٹ میں مرکزی کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے، جبکہ صوبے کے تمام اضلاع میں ڈپٹی کمشنرز کے دفاتر میں مانیٹرنگ اور کوآرڈینیشن سینٹرز بھی فعال کر دیے گئے ہیں۔





