عمر بڑھنے کے ساتھ بالوں کا سفید ہونا ایک قدرتی عمل ہے۔ جوانی میں بالوں کا رنگ جیسا بھی ہو، وقت گزرنے کے ساتھ بالوں کی جڑوں میں رنگت برقرار رکھنے والے خلیات (میلانین) کمزور پڑ جاتے ہیں۔
اگرچہ بالوں میں سفیدی کو بڑھاپے کی نشانی سمجھا جاتا ہےمگر آج کل نوجوانوں میں بھی یہ مسئلہ تیزی سے دیکھا جا رہا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق قبل از وقت بال سفید ہونے کی چند عام وجوہات درج ذیل ہیں۔
ذہنی تناؤ (اسٹریس)
زندگی میں دائمی تناؤ یا مسلسل ذہنی دباؤ نہ صرف نیند کی کمی، انزائٹی اور ہائی بلڈ پریشر کا سبب بنتا ہے بلکہ یہ بالوں کی رنگت پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ حالیہ تحقیقی رپورٹس کے مطابق، اگر اچانک بال سفید ہونا شروع ہو جائیں تو اس کی ایک بڑی وجہ شدید تناؤ ہو سکتا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ اگر ذہنی تناؤ پر قابو پا لیا جائے، تو بالوں کی رنگت کسی حد تک دوبارہ بحال ہو سکتی ہے۔
آٹو امیون امراض
کچھ طبی مسائل ایسے ہوتے ہیں جن میں جسم کا اپنا مدافعتی نظام (Immune System) ہی صحت مند خلیات پر حملہ کر دیتا ہے۔ جب یہ نظام بالوں کی جڑوں پر حملہ آور ہوتا ہے، تو اس کے نتیجے میں بال اپنی قدرتی رنگت کھو دیتے ہیں اور تیزی سے سفید ہونے لگتے ہیں۔
وٹامن بی 12 کی کمی
جوانی میں بالوں کی سفیدی کی ایک بڑی اور عام وجہ جسم میں وٹامن بی 12 کی کمی ہے۔ یہ وٹامن جہاں جسم کو توانائی فراہم کرتا ہے، وہاں بالوں کی نشوونما اور رنگت کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے۔ ہمارے جسم کو خون کے سرخ خلیات بنانے کے لیے
اس کی ضرورت ہوتی ہے، جو بالوں تک آکسیجن پہنچاتے ہیں۔ اس کی کمی سے بالوں کے خلیات کمزور ہو کر قبل از وقت سفید ہو جاتے ہیں۔
تمباکو نوشی
تمباکو نوشی اور بالوں کی قبل از وقت سفیدی کے درمیان گہرا تعلق پایا گیا ہے۔ طبی تحقیقات کے مطابق، تمباکو نوشی کرنے والے افراد میں 30 سال کی عمر سے پہلے ہی بال سفید ہونے کا امکان دگنا ہو جاتا ہے۔ سگریٹ نوشی سے خون کی شریانیں سکڑ جاتی ہیں، جس سے بالوں کی جڑوں تک خون اور غذائیت کی فراہمی متاثر ہوتی ہے اور بال گرنے یا سفید ہونے لگتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : یادداشت کمزور کرنے والی وہ وجوہات جن سے ہم سب ناواقف ہیں
نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع ہونے والی معلومات پر مبنی ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج (ڈاکٹر) سے بھی ضرور مشورہ کریں۔





