امریکی جریدے دی ڈپلومیٹ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکا کو اقوام متحدہ میں بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی بلیک لسٹنگ کے لیے پاکستان کی حمایت کرنی چاہیے، کیونکہ اس سے خطے میں امن و استحکام کو فروغ مل سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بی ایل اے اور مجید بریگیڈ افغانستان میں موجود محفوظ ٹھکانوں سے علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں، اور ان گروہوں کی سرگرمیاں خطے میں عدم استحکام کا باعث بن رہی ہیں۔
جریدے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور چین پہلے ہی بی ایل اے کو عالمی سطح پر سفارتی اور مالی طور پر تنہا کرنے کے لیے اقوام متحدہ سے رجوع کر چکے ہیں۔ تاہم امریکا کی جانب سے اس معاملے پر محتاط یا مخالف مؤقف کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ امریکا خود بھی ان گروہوں کو دہشت گرد قرار دے چکا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بی ایل اے کی اقوام متحدہ میں بلیک لسٹنگ کی نامزدگی کو روکنے سے پاک امریکا انسداد دہشت گردی تعاون متاثر ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان جیسے اہم سیکیورٹی شراکت دار کو ناراض کرنا امریکا کے لیے طویل مدت میں نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
دی ڈپلومیٹ کے مطابق اگر بی ایل اے کو اقوام متحدہ کی فہرست میں شامل کیا جاتا تو اس کے مالی ذرائع، عالمی نیٹ ورک اور سرگرمیوں کو محدود کرنے میں مدد مل سکتی تھی۔ افغانستان میں موجود دہشت گرد محفوظ پناہ گاہیں بھی خطے کے امن کے لیے مسلسل خطرہ قرار دی گئی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی ایل اے اب صرف ایک مقامی تنظیم نہیں رہی بلکہ یہ علاقائی عدم استحکام پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والا نیٹ ورک بن چکی ہے، جو سی پیک منصوبوں، چینی شہریوں اور پاکستانی اہداف کو بھی نشانہ بناتی رہی ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے بلیک لسٹنگ کی صورت میں اس کے اثاثے منجمد اور عالمی سطح پر سفری پابندیاں عائد کی جا سکتی تھیں، جس سے اس کی کارروائیوں میں نمایاں کمی آ سکتی تھی۔
جریدے نے یہ بھی نشاندہی کی کہ امریکا بھی بلوچستان کے اہم معدنی وسائل میں دلچسپی رکھتا ہے، اور مستقبل میں امریکی سرمایہ کاری اور عملے کو بھی ممکنہ خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ صرف یکطرفہ اقدامات کے بجائے ایک متوازن اور مؤثر بین الاقوامی حکمت عملی کی ضرورت ہے، جبکہ بی ایل اے جیسے گروہوں کے خلاف عالمی سطح پر مشترکہ ردعمل ناگزیر ہے۔ مستقبل میں امریکا کے عملی اقدامات ہی یہ طے کریں گے کہ یہ پالیسی دہشت گردی کے خلاف عالمی کوششوں کو مضبوط بناتی ہے یا کمزور کرتی ہے۔





