بجٹ پاس نہ کرتے تو خیبر پختونخوا کا نظام رک جاتا، سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی

راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ وفاق کی جانب سے صوبے سے مانگی گئی رقم کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ملاقات سے مشروط کیا گیا ہے، جبکہ وفاق کو رقم ادا کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔

اڈیالہ روڈ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ نہیں لگتا کہ جبر کا نظام اتنی جلدی پیچھا چھوڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر خزانہ سے پی ٹی آئی رہنماؤں کی ملاقات فاٹا سے متعلق معاملات پر ہوئی، جہاں معاہدوں کے برخلاف ٹیکسز عائد کیے جانے پر بات کی گئی، اس کے علاوہ کسی اور موضوع پر گفتگو نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اگر خیبر پختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جاتا تو صوبہ نہیں چل سکتا تھا۔ وفاق نے جو قرضے لیے ہیں ان کا سود ادا کرنا ہے، اسی مد میں صوبوں سے رقم مانگی جا رہی ہے، جبکہ صوبوں کو اپنے اخراجات میں سے رقم نکال کر وفاق کو دینی ہے۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں بجٹ پاس نہ کرنے کا مطلب اپنی ہی حکومت کا خاتمہ کرنا تھا۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے انتخابات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہاں جو صورتحال بنی وہ کوئی اچھی مثال نہیں تھی، جبکہ جن امیدواروں کو نشستیں ملیں انہیں بھی توڑا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : ایف آئی ایچ پرو لیگ میں پاکستانی پرچم کی غلط نمائش، انتظامیہ نے پاکستان سے معذرت کرلی

آزاد کشمیر انتخابات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پارٹی میں مشاورت جاری ہے، اگر عوامی ایکشن کمیٹی کو الیکشن سے باہر رکھا جاتا ہے تو الیکشن کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیے ہیں، جبکہ ٹکٹوں کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ گلگت بلتستان میں جو لوگ دوسری طرف چلے گئے انہیں پارٹی سے نکال دیا جائے گا۔ پی ٹی آئی اور بانی عمران خان کے نام پر ووٹ لے کر وفاداری تبدیل کرنا دھوکا دہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں موجود صورتحال تشویشناک ہے، اس پر ٹھنڈے دماغ سے غور و خوض ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے کشمیر کاز اور بین الاقوامی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔

Scroll to Top