وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن کو 2018 سے تمام ادوار کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی کھلی پیشکش کرتے ہوئے سیاسی معاملات پر یکساں معیار اپنانے پر زور دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن کو کھلی پیشکش کی ہے کہ اگر حکومتوں کی قانونی اور غیر قانونی حیثیت پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں تو پھر تمام معاملات کی شفاف تحقیقات 2018 سے شروع کی جائیں تاکہ حقیقت عوام کے سامنے آ سکے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ “آئیں 2018 سے تحقیقات شروع کرتے ہیں، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔” ان کا کہنا تھا کہ اگر واقعی شفافیت مطلوب ہے تو ماضی کے تمام سیاسی اور حکومتی فیصلوں کا غیر جانبدار جائزہ لیا جانا چاہیے۔
انہوں نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے ریمارکس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کا دائرہ صرف ایک دور تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ 2018 سے لے کر 2024 تک تمام ادوار کا جائزہ لیا جائے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سوال اٹھایا کہ جو لوگ موجودہ حکومت کو غیر قانونی قرار دیتے ہیں، وہ یہ بھی بتائیں کہ کیا 2018 میں کوئی غیر معمولی سیاسی عمل یا “جادوگری” نہیں ہوئی تھی؟
ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی حکومت کو قانونی تسلیم کیا جاتا ہے تو پھر تمام حکومتوں کے ساتھ ایک ہی معیار اپنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ “بات نکلے گی تو پھر دور تک جائے گی”، لہٰذا مکمل اور غیر جانبدار تحقیقات ہی واحد راستہ ہے تاکہ حقائق واضح ہو سکیں۔
وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن آئینی اور قانونی معاملات پر یکساں معیار ضروری ہے تاکہ کسی بھی دور پر دوہرا معیار نہ اپنایا جائے۔





