مشرقِ وسطیٰ میں امن کوششیں، پاکستانی قیادت نوبیل امن انعام کی نامزدگی کی مستحق ہے، نجم سیٹھی

مشرقِ وسطیٰ میں امن کوششیں، پاکستانی قیادت نوبیل امن انعام کی نامزدگی کی مستحق ہے، نجم سیٹھی

نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کیلئے پاکستانی قیادت کی سفارتی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا، جس کی بنیاد پر وہ نوبیل امن انعام کی نامزدگی کی مستحق ہو سکتی ہے۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ جنگ اور امن کی غیر معمولی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کی سیاسی قیادت نے اہم سفارتی کردار ادا کیا ہے، جس کے باعث وزیراعظم اور دیگر متعلقہ شخصیات نوبیل امن انعام کی نامزدگی کی مستحق ہو سکتی ہیں۔

بھارتی صحافی کرن تھاپر کو دیے گئے انٹرویو میں نجم سیٹھی سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے وزیراعظم اور آرمی چیف کو، قطری قیادت کے ساتھ، نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا جانا چاہیے؟

اس سوال کے جواب میں نجم سیٹھی نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ عرصہ جنگ اور امن دونوں حوالوں سے غیر معمولی رہا ہے اور اس صورتحال تک پہنچنے میں پاکستان کی تین اہم شخصیات نے نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق وزیراعظم، وزیر خارجہ اور بعد ازاں وزیر داخلہ کی سفارتی کوششوں کو نہ صرف ایران بلکہ امریکہ کی جانب سے بھی سراہا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان رہنماؤں کی کاوشوں کا مختلف عالمی حلقوں میں اعتراف کیا گیا، جس کے باعث ان کی خدمات نوبیل امن انعام کی نامزدگی کے قابل سمجھی جا سکتی ہیں۔

نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ ان کے نزدیک پاک بھارت تنازع اس نوعیت کی غیر معمولی نامزدگی کا متقاضی نہیں تھا، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ہونے والی حالیہ پیش رفت ایک تاریخی موقع کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف خلیجی خطے، پاکستان، بھارت یا امریکہ تک محدود معاملہ نہیں بلکہ عالمی امن کے وسیع تر ایجنڈے کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر عالمی سطح پر امن کے فروغ میں کردار ادا کرنے والوں کو تسلیم کرنا مقصود ہے تو اس تناظر میں متعلقہ پاکستانی قیادت کی نوبیل امن انعام کے لیے نامزدگی پر غور کیا جانا چاہیے۔

Scroll to Top