چنئی: بھارتی ریاست تمل ناڈو کی حکومت نے ماؤں اور نومولود بچوں کی صحت کے تحفظ اور سرکاری ہسپتالوں میں زچگی کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک منفرد فلاحی منصوبے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت سرکاری ہسپتالوں میں پیدا ہونے والے ہر بچے کو ایک گرام سونے کی انگوٹھی تحفے میں دی جائے گی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس نئی اسکیم کو ’’تھائی ماما تھنگا موتھیرا تھٹم‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد غریب اور متوسط طبقے کے خاندانوں کو سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ سرکاری طبی اداروں پر عوام کے اعتماد کو مزید مضبوط بنانا اور محفوظ زچگی کو فروغ دینا ہے۔
تمل ناڈو حکومت نے اس فلاحی منصوبے کے لیے سالانہ 755.83 کروڑ بھارتی روپے مختص کیے ہیں۔ اعلان کے مطابق 22 جون 2026 یا اس کے بعد سرکاری ہسپتالوں میں پیدا ہونے والے تمام نومولود اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
ریاستی حکام کے مطابق وزیراعلیٰ وجے 15 ستمبر کو سابق رہنما سی این اناڈورائی کے یومِ پیدائش کے موقع پر اس منصوبے کا باضابطہ افتتاح کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں : امن کے قیام میں پاکستان کا کردار دنیا تسلیم کر رہی ہے، اسحاق ڈار
سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ پروگرام حکومت کے وسیع تر وژن ’’ویٹری تملھگم‘‘ کا حصہ ہے، جس کے تحت ماؤں اور بچوں کو بہتر طبی سہولیات، صحت کا تحفظ اور مالی معاونت فراہم کرنا ترجیحات میں شامل ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تمل ثقافت میں سونے کی انگوٹھی خوشحالی، برکت اور نیک شگون کی علامت سمجھی جاتی ہے، اس لیے یہ تحفہ نہ صرف خاندانوں کے لیے مالی معاونت کا ذریعہ بنے گا بلکہ اس کی جذباتی اور ثقافتی اہمیت بھی ہوگی۔
ماہرین کے مطابق اس اقدام سے ریاست بھر میں سرکاری ہسپتالوں میں زچگی کے رجحان میں اضافہ متوقع ہے، جبکہ ہزاروں خاندان اس فلاحی اسکیم سے براہِ راست مستفید ہوں گے۔





