صحافی عمار سولنگی نے دعویٰ کیا ہے کہ عالمی نشریاتی ادارے بی بی سی اردوکے مقامی عملے کو گزشتہ دو ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں عمار سولنگی نے لکھا کہ بی بی سی اردو نے اپنے مقامی عملے کو 2 ماہ سے تنخواہ نہیں دی ہے۔
انہوں نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی مبینہ وجہ بتاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مقامی مسائل پر منفی رپورٹنگ نہ کرنا اس کی وجہ بنا۔
انہوں نے ایکس پر لکھاکہ کیا آپ اس کی وجہ جانتے ہیں؟ مقامی مسائل کی اتنی منفی عکاسی (نیگیٹو فلیمنگ) نہ کرنا جتنی مطلوب تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اب آپ کو بی بی سی اردو کے پاکستانی ملازمین کی جانب سے کئی منفی کہانیاں سامنے آتی دکھائی دے رہی ہیں۔”
صحافی عمار سولنگی نے بی بی سی کے ملازمین پر زور دیا کہ وہ کسی بیرونی ایجنڈے کے لیے اپنے ضمیر کا سودا نہ کریں اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں۔
یہ بھی پڑھیں : آزاد کشمیر سے متعلق جعلی خبر کی اشاعت، وزارتِ اطلاعات کا بی بی سی سے شدید احتجاج
انہوں نے مذید کہا کہ مقامی عملے کے لیے میرا پیغام ہےکہ اپنے ضمیر کا سودا نہ کریں۔ کھڑے ہوں اور بولیں۔ یہ آپ کا ملک ہے، آپ کی دھرتی ماں ہے۔ اس معیشت میں کروڑوں لوگ برسرِروزگار ہیں اور سب کے سب کسی بیرونی چینل کے غیر ملکی ایجنڈے کی خدمت نہیں کر رہے۔”
انہوں نے بی بی سی اردو کو چیلنج کرتے ہوئے اپنے ٹویٹ کے میں لکھا کہ وہ بینک ٹرانزیکشنز نہ ہونے کے ثبوت بھی فراہم کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں : راستوں کی بندش سے متعلق بی بی سی کی خبر حقائق کے منافی ہے ،آئی جی آزاد کشمیر
عمار سولنگی کا کہنا تھا، “بی بی سی اردو اس بات کو چیلنج کرے، میں بینک ٹرانزیکشنز نہ ہونے کے ثبوت اور ای میل کی کاپی فراہم کر دوں گا۔”





