شاہد جان
خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں سابقہ بجٹ بحث اجلاس کے دوران ایوان میں سہیل آفریدی کے گارڈ کے داخلے اور نعرے بازی پر اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد نے سخت احتجاج کیاجس پر اسپیکر بابر سلیم سواتی کی جانب سے اس واقعے پر ایوان سے باقاعدہ معذرت کی گئی۔
اسمبلی فلور پر اظہار خیال کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد نے کہا کہ صوبائی اور قومی اسمبلی کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا، لیکن سال 2013 سے کچھ عجیب واقعات ہونے لگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرسوں جو کچھ ہوا اس سے پورے ایوان کا استحقاق مجروح ہوا ہے۔
ڈاکٹر عباد نے کہا کہ وزیر اعلیٰ اس ایوان کا قائد ہے لیکن انہوں نے ایک اجنبی کو ایوان میں آنے دیا اور اس نے یہاں پر سیاسی لیڈر کے حق میں نعرے لگائے، جس سے ایوان کی تقدیس پامال ہوئی۔
انہوں نے اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر بننے کے بعد آپ کسی پارٹی کا رہنما نہیں ہوتے بلکہ آپ کا کام ایوان کا استحقاق بلند کرنا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا آپ اجازت دیں گے کہ میرا یا کسی اور پارٹی کا سیکورٹی گارڈ ایوان میں آ کر نعرے لگائے؟ یہ کوئی ذاتی ایوان نہیں بلکہ 4 کروڑ عوام کا ایوان ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے اس گارڈ کی سروس کو نقصان پہنچایا، اگر وزیر اعلیٰ کو رولز کا پتہ نہیں تھا تو اسپیکر صاحب آپ کو تو رولز کا پتہ ہے۔ پوری میڈیا نے دکھایا کہ ایوان کا استحقاق مجروح ہوا، اس لیے ہمارا حق بنتا ہے کہ تحریک استحقاق پیش کریں۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں اسٹریٹ موومنٹ کہاں ہے؟ پی ٹی آئی کارکن کا سہیل آفریدی سے سوال
اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی نے اپوزیشن لیڈر کی نشاندہی کو درست تسلیم کرتے ہوئےکہا کہ پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ ایک اجنبی کو فلور پر اجازت دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ یہ وزیر اعلیٰ یا گارڈ کی غلطی نہیں تھی بلکہ اس کرسی کی غلطی تھی جس پر میں ایوان سے معذرت خواہ ہوں اور اس پر کارروائی شروع کر دی ہے۔
اسپیکر کی معذرت پر اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد نے کہا کہ جو بڑے لوگ ہوتے ہیں وہ اپنی غلطی کو مانتے ہیں، اگر اس معذرت کو سارا ایوان قبول کرے تو ہم اپنی تحریک استحقاق واپس لیتے ہیں۔
ڈاکٹر عباد نے مزید کہا کہ اسی دن پریس گیلری میں ایک سیاسی کارکن نے اسمبلی سٹاف سے تلخ کلامی کی جس کی وہ مذمت کرتے ہیں۔
اسپیکر بابر سلیم سواتی نے اس پر مزید ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسمبلی سٹاف سے تلخ کلامی کرنے والے اس سیاسی کارکن پر آئندہ اسمبلی داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
اسپیکر نے واضح کیا کہ اس اجلاس کے بعد اپوزیشن کے لیے الگ اور حکومت کے لیے الگ جگہ مختص کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب نیچے گیلریز میں کسی وزیٹر کو بیٹھنے کی اجازت نہیں دیں گے، وزیٹر کے لیے جو اوپر جگہ مختص ہے وہ اوپر ہی بیٹھیں گے۔





