خیبرپختونخوا میں ڈاکٹرز اور نرسز کی بھرتیوں میں کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کا کیا کردار؟ اسمبلی میں بھی سوالات اٹھ گئے

خیبرپختونخوا میں ڈاکٹروں، ڈینٹل سرجنز اور نرسوں کی کنٹریکٹ بھرتیوں کے عمل میں انتظامی افسران کے کردار پر سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں جبکہ حکومتی ارکان نے بھی بھرتی کے طریقہ کار پر اعتراضات اٹھا دیے ہیں۔

حکومتی رکن اسمبلی عبید الرحمن نے اسمبلی میں سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی کمشنر کو ڈاکٹروں اور نرسوں کی بھرتیوں کا اختیار کس نے دیا؟ ان کا کہنا تھا کہ بھرتیوں میں بے ضابطگیوں کی شکایات سامنے آ رہی ہیں جن کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔

دوسری جانب مانسہرہ میں میڈیکل آفیسرز، ڈینٹل سرجنز اور نرسنگ اسٹاف کی بھرتیوں کے حوالے سے یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ ڈویژنل سطح پر انٹرویوز کے باوجود ضلع مانسہرہ کی آسامیوں پر دیگر ریجنز کے امیدواروں کو شامل کیا گیا۔

سیکرٹری صحت نے جاری اشتہار اور رولز کے برخلاف مختلف اضلاع کے امیدواروں کو یکجا کرکے صوبائی سطح پر میرٹ مرتب کیا جس کے باعث مقامی امیدواروں کو نظر انداز کیے جانے کے اعتراضات سامنے آئے ہیں۔

متاثرہ امیدواروں نے بھرتیوں کو قواعد کے خلاف قرار دیتے ہوئے عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی، صوبائی وزراء اور اراکین اسمبلی سے معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کا مرحلہ وار احتجاجی تحریک چلانے کافیصلہ

اگر بھرتیوں کا طریقہ کار متعلقہ سروس رولز یا سرکاری پالیسی سے مطابقت نہ رکھتا ہو، یا مقررہ طریقۂ کار سے انحراف کیا گیا ہو، تو ایسی بھرتیوں کو عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے، بھرتیوں کا اختیار متعلقہ قواعد، سرکاری پالیسی اور نوٹیفکیشن کے مطابق استعمال ہونا چاہیے، اور اگر کسی مرحلے پر ان قواعد کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو اس کی عدالتی جانچ ممکن ہے۔

واضح رہے کہ ایبٹ آباد میں ڈاکٹروں اور نرسوں کی بھرتیوں کے لیے انٹرویوز کا عمل ڈپٹی کمشنر کی زیر نگرانی قائم سلیکشن کمیٹی نے مکمل کیا، جس میں ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے افسران شامل تھے۔

Scroll to Top