اسرائیل کا ای ون منصوبہ فلسطینی ریاست کے لیے سنگین خطرہ ہے، پاکستان

نیویارک: اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے کہ اسرائیل کا ای ون منصوبہ فلسطینی ریاست کے جغرافیائی تسلسل کے لیے سنگین خطرہ ہے اور یہ دو ریاستی حل کی راہ میں ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عاصم افتخار نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی صورتحال مسلسل خراب ہو رہی ہے، جہاں بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کے ارکان نے بھی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاری کا دائرہ مسلسل بڑھ رہا ہے، جبکہ اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد میں بھی غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ان کے مطابق ای ون منصوبہ فلسطینی ریاست کے جغرافیائی تسلسل کو متاثر کرے گا اور خطے میں پائیدار امن کی کوششوں کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

عاصم افتخار نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں 4 ہزار 750 نئے رہائشی یونٹس کی منظوری ایک تشویشناک پیش رفت ہے، جو دو ریاستی حل کے امکانات کو مزید کمزور کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : کوہاٹ پولیس کی بڑی کارروائی، راکٹ لانچر، ہینڈ گرنیڈز اور مارٹر گولے برآمد، افغان شہری گرفتار

انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کی مالی رقوم روکنا فلسطینی اداروں کو کمزور کرنے اور حکمرانی کے نظام کو مفلوج کرنے کی کوشش ہے، جس کے منفی اثرات پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال اسرائیل نے فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں رکاوٹ بننے والے ای ون منصوبے کی منظوری دی تھی، جس کے تحت مغربی کنارے اور یروشلم کے درمیان اسرائیلی آبادکاروں کے لیے 3401 نئے مکانات تعمیر کیے جائیں گے۔

Scroll to Top