لندن: برطانوی حکومت نے نئے امیگریشن اور پناہ گزین بل کے تحت ایک نئی تجویز پیش کی ہے، جس کے مطابق مستقبل میں مالی طور پر مستحکم ہونے والے بالغ پناہ گزینوں کو حکومت کی جانب سے رہائش اور بنیادی ضروریات پر کیے گئے اخراجات کا کچھ حصہ واپس ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حکومت کی جانب سے وصول کی جانے والی رقم تقریباً 10 ہزار پاؤنڈ تک ہو سکتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد پناہ گزینوں کی مدد پر آنے والے سرکاری اخراجات کا جزوی طور پر ازالہ کرنا اور ٹیکس دہندگان پر مالی بوجھ کم کرنا ہے۔
مجوزہ پالیسی کے تحت صرف وہی پناہ گزین ادائیگی کے پابند ہوں گے جو ملازمت حاصل کرنے کے بعد مالی طور پر مستحکم اور ادائیگی کی استطاعت رکھتے ہوں گے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ایسے حفاظتی اقدامات بھی تجویز کیے گئے ہیں تاکہ ادائیگی کے باعث کسی شخص کو غربت یا بے گھر ہونے جیسے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
یہ بھی پڑھیں : مذاکرات کی پیشکش ہوئی، مگر بات آگے نہیں بڑھی، بیرسٹر گوہر
مجوزہ بل کے مطابق بچوں کو اس پالیسی سے مستثنیٰ رکھا جائے گا، جبکہ اس کا اطلاق ماضی کے کیسز پر نہیں ہوگا۔ تاہم حکومت نے تاحال یہ واضح نہیں کیا کہ ادائیگی کا طریقہ کار کیا ہوگا، اقساط کس انداز میں وصول کی جائیں گی اور کم از کم کتنی آمدنی رکھنے والے افراد اس پالیسی کے دائرہ کار میں آئیں گے۔
واضح رہے کہ برطانیہ میں امیگریشن اور پناہ گزینوں سے متعلق قوانین گزشتہ کئی برسوں سے سیاسی بحث کا اہم موضوع رہے ہیں، جہاں غیر قانونی ہجرت اور پناہ گزینوں سے متعلق پالیسیوں پر مسلسل غور و خوض جاری ہے۔





