اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ مہاجرین کی 12 مخصوص نشستیں فوری طور پر ختم نہیں کی جا سکتیں، کیونکہ ان کے خاتمے کے لیے آئینی ترمیم ناگزیر ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم نے ہمیشہ مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور باہمی مشاورت کی راہ اختیار کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت آج بھی یہی سمجھتی ہے کہ ہر تنازع کا بہترین حل بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایکشن کمیٹی کے کالعدم قرار دیے جانے کے بعد حکومت کے پاس اس سے براہِ راست مذاکرات کا کوئی راستہ موجود نہیں رہا، کیونکہ حکومت کسی بھی کالعدم تنظیم کے ساتھ بات چیت نہیں کر سکتی۔ ان کے مطابق ایکشن کمیٹی نے ثالثی کے لیے مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کیا تھا۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ مہاجرین کی 12 نشستوں کے معاملے پر حکومت کی جانب سے چار مختلف آپشنز پیش کیے گئے تھے، تاہم انہیں قبول نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : جیو نیوز حساس ڈاکومنٹری معاملہ، پیمرا نے اسلامی نظریاتی کونسل سے رجوع کر لیا
انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال میں یہ 12 نشستیں برقرار ہیں اور برقرار رہیں گی، جبکہ اگر آئندہ عام انتخابات کے بعد نئی اسمبلی مناسب سمجھے تو آئینی ترمیم کے ذریعے اس حوالے سے کوئی فیصلہ کر سکتی ہے۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے مزید کہا کہ حکومت آزاد کشمیر نے فیصلہ کیا ہے کہ کسی بھی پرتشدد ہجوم کو سڑکوں پر آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعظم آزاد کشمیر، جو مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھتے ہیں، اس معاملے پر کوئی مؤقف یا بیان دیں گے تو حکومت بھی اس پر اپنا ردعمل دے گی۔





