امریکا نے مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) میں مستقل امریکی سفارت خانہ تعمیر کرنے کے لیے باضابطہ معاہدے پر دستخط کر دیے، جس کے تحت نئے سفارتی کمپلیکس کی تعمیر جنوبی مقبوضہ بیت المقدس کے ایلنبی کمپاؤنڈ میں کی جائے گی۔
بدھ کے روز منعقدہ تقریب میں اسرائیل کے وزیر خارجہ گیڈئین سار اور اسرائیل میں امریکا کے سفیر مائیک ہکابی نے زمین کی الاٹمنٹ سے متعلق معاہدہ پیش کیا، جسے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی سفیر مائیک ہکابی نے کہا کہ امریکا یروشلم کو یہودی عوام کا ازلی، مقامی اور مستقل دارالحکومت تسلیم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اس سرزمین پر اپنا پرچم لہرائے گا اور یہاں ایک نیا، مستقل سفارتی کمپلیکس تعمیر کیا جائے گا، جو اسرائیل میں امریکی سفارتی سرگرمیوں کا مرکزی مرکز ہوگا۔
اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈئین سار نے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام امریکا اور اسرائیل کے درمیان مضبوط اور “ناقابلِ شکست اتحاد” کی عکاسی کرتا ہے۔
اعلامیے کے مطابق نیا امریکی سفارت خانہ جنوبی مقبوضہ بیت المقدس کے ایلنبی کمپاؤنڈ میں تعمیر کیا جائے گا، جہاں مستقبل میں امریکی سفارتی مشن کی مستقل سرگرمیاں جاری رکھی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں : فیفا ورلڈ کپ میں تاریخی کامیابی پر میکسیکو میں جشن، دم گھٹنے سے 3 افراد زندگی کی بازی ہار گئے
دوسری جانب اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم “عدالہ” نے اس فیصلے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارت خانے کی تعمیر ایک گہری تاریخی ناانصافی کو قانونی حیثیت دینے کے مترادف ہے۔
واضح رہے کہ مقبوضہ بیت المقدس اسرائیل اور فلسطین کے درمیان سب سے زیادہ متنازع علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ فلسطینی قیادت مشرقی یروشلم کو مستقبل کی آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت قرار دیتی ہے، جبکہ اسرائیل پورے شہر پر اپنا دعویٰ برقرار رکھے ہوئے ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے صدارتی دور میں دسمبر 2017 میں یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے وہاں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جس پر عالمی سطح پر وسیع ردعمل سامنے آیا تھا۔





