اسلام آباد: دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی ملک پاکستان کو بنجر زمین میں تبدیل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور پاکستان ہر قسم کے خطرے یا جارحیت کا بھرپور مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پانی کے معاملے پر پاکستان اپنے تمام حقوق محفوظ رکھتا ہے اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبی وسائل کے حوالے سے پاکستان کا ایک واضح قومی مؤقف موجود ہے، جبکہ اس معاملے میں چین کی شرکت کو مثبت پیش رفت قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں : کیمیائی دودھ کیس کے سزایافتہ گروپ کو خیبرپختونخوا میں لائسنس کیسے ملا؟ دستاویزات سامنے آگئیں
ترجمان نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی کے فروغ کے لیے بامعنی اور نتیجہ خیز سفارتی روابط کا حامی ہے اور خطے میں استحکام کے لیے ہر مثبت کوشش کا خیرمقدم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی بھی معاملے پر پاکستان کا مؤقف بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق ہے۔ اگر کوئی ملک دونوں ممالک کے درمیان امن و سلامتی کے قیام کے لیے مثبت کردار ادا کرنا چاہے تو پاکستان اس کا خیرمقدم کرے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں اور وہ ہر مثبت بین الاقوامی سفارتی رابطے کے لیے تیار ہے، جبکہ بھارت بین الاقوامی ثالثی اور سفارتی روابط سے گریز کرتا ہے کیونکہ بعض اہم معاملات پر اس کا مؤقف بین الاقوامی قانونی جانچ پر پورا نہیں اترتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر، سرحدی آبی وسائل اور انسداد دہشت گردی سمیت مختلف معاملات پر بھارت کا مؤقف بین الاقوامی قانون کے تحت کمزور ہے۔
ترجمان کے مطابق پاکستان امریکا سمیت کسی بھی ملک کی جانب سے خطے میں امن کے فروغ کے لیے کی جانے والی مثبت کوششوں کا خیرمقدم کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستانی ہیکرز نے بھارت کا معروف ٹی وی چینل ہیک کر لیا
انہوں نے بنکاک اور کولمبو میں ہونے والے حالیہ رابطوں پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ نجی تھنک ٹینکس کے تحت اس نوعیت کی ملاقاتیں ماضی میں بھی ہوتی رہی ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم سے منسوب خط سے متعلق سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ حکومت پاکستان نہ اس خط کی تصدیق کرتی ہے اور نہ ہی اس پر کوئی تبصرہ کرنا چاہتی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ کراچی میں دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان نے سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے ٹارگٹڈ کارروائیاں کیں، کیونکہ پاکستان اپنے شہریوں کی سلامتی اور تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔





