پشاور: خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی جانب سے پنجاب میں کیمیائی اور مضرِ صحت دودھ کے مقدمات میں سزا یافتہ بھٹی گروپ کو لائسنس جاری کیے جانے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق ایک جانب گروپ کے خلاف خیبرپختونخوا میں مقدمہ درج کیا گیا، جبکہ دوسری جانب قواعد و ضوابط پر اعتراضات کے باوجود دو سال کے لیے لائسنس بھی جاری کر دیا گیا۔
ریکارڈ کے مطابق پنجاب فوڈ اتھارٹی اس سے قبل ایم ایس مقدس فوڈ کے خلاف مختلف کارروائیاں کر چکی تھی۔ فیکٹری کی یومیہ پیداواری صلاحیت تقریباً دو لاکھ لیٹر بتائی گئی، جبکہ اس کی مصنوعات پنجاب کے مختلف اضلاع سمیت اسلام آباد اور راولپنڈی تک سپلائی کی جاتی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایرانی سپریم لیڈر کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے چیئرمین سینیٹ اور گورنر خیبرپختونخوا تہران روانہ
دستاویزات کے مطابق 16 دسمبر 2024 کو پنجاب فوڈ اتھارٹی نے بہاولنگر میں فیکٹری پر چھاپہ مار کر ہزاروں لیٹر مبینہ کیمیائی دودھ، کیمیکلز اور دیگر سامان برآمد کیا۔
بعد ازاں مئی 2026 میں عدالت نے فیکٹری مالکان رؤف بھٹی اور مقصود بھٹی کو 12،12 سال قید اور مجموعی طور پر 15 کروڑ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے مطابق رؤف بھٹی کے خلاف آٹھ جبکہ مقصود بھٹی کے خلاف چھ مقدمات درج ہیں۔
دستاویزات کے مطابق بعد ازاں گروپ نے خیبرپختونخوا کا رخ کیا اور یکم اکتوبر 2025 کو حطار انڈسٹریل اسٹیٹ میں ایک پلاٹ حاصل کیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وہاں روزانہ تقریباً ایک لاکھ لیٹر غیرمعیاری اور کیمیائی دودھ تیار کر کے راولپنڈی، اسلام آباد اور خیبرپختونخوا کی مارکیٹوں میں سپلائی کیا جاتا رہا۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق 26 نومبر 2025 کو خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے مذکورہ فیکٹری پر کارروائی کرتے ہوئے مبینہ کیمیائی دودھ تلف کیا، 14 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی مشینری، گاڑیاں، کیمیکلز، ڈرم اور دیگر سامان ضبط کر کے مقدمہ درج کیا۔ ضبط شدہ سامان کی نگرانی کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب کیے گئے۔
بعد ازاں فیکٹری مالکان نے ضبط شدہ سامان کی سپرداری کے لیے عدالت سے رجوع کیا۔ سول کورٹ نے درخواست مسترد کر دی، تاہم بعد میں سیشن کورٹ نے سامان سپرداری پر دینے کا حکم جاری کیا۔
یہ بھی پڑھیں : مہمند میں پولیس موبائل پر دہشت گردوں کا حملہ؛ ایڈیشنل ایس ایچ او سمیت دو اہلکار شہید
ذرائع کے مطابق عدالت نے یہ شرط بھی عائد کی کہ سامان دوسری جگہ منتقل نہیں کیا جائے گا اور فیکٹری دوبارہ فعال نہیں کی جائے گی۔ اس فیصلے کے خلاف فوڈ اتھارٹی نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی، جہاں مقدمہ تاحال زیر سماعت ہے۔
ذرائع کے مطابق کارروائی کے بعد معاملہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے نوٹس میں بھی آیا، جنہوں نے اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی واصف سعید سے کارروائی سے متعلق تمام شواہد طلب کیے۔ بتایا جاتا ہے کہ چھاپے کی ویڈیوز، تصاویر اور دیگر دستاویزی ثبوت وزیراعلیٰ کو پیش کیے گئے، جس کے کچھ عرصہ بعد واصف سعید کا تبادلہ کر دیا گیا اور کاشف اقبال جیلانی کو نیا ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا گیا۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق بعد میں گروپ نے صوابی کے گدون انڈسٹریل اسٹیٹ میں “مقدس فوڈ” کے نام سے لائسنس کے لیے درخواست دی۔
ڈائریکٹر ٹیکنیکل نے تحریری سفارشات میں درخواست مسترد کرنے کی سفارش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزاروں کا ماضی غیرمعیاری اور کیمیائی دودھ کی تیاری و فروخت سے متعلق رہا ہے، اس لیے انہیں لائسنس جاری کرنا عوامی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : کوہاٹ: دفعہ 144 کے باوجود غیر قانونی گولڈ مائننگ جاری، اہم دعوے سامنے آگئے
ریکارڈ میں یہ بھی درج ہے کہ گروپ پہلے حطار میں روزانہ تقریباً ایک لاکھ لیٹر دودھ تیار کر رہا تھا جبکہ اس کی پیداواری صلاحیت دو لاکھ لیٹر یومیہ تک تھی۔ متعلقہ افسر نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس نیٹ ورک کی مصنوعات خیبرپختونخوا کی تقریباً 40 فیصد آبادی تک پہنچ سکتی ہیں۔
دستاویزات کے مطابق تمام اعتراضات اور سفارشات کے باوجود 14 مارچ 2026 کو “مقدس فوڈ” کے مالک محمد ابراہیم کے نام دو سال کے لیے لائسنس جاری کر دیا گیا۔
اس معاملے پر رابطہ کرنے پر ڈائریکٹر جنرل خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کاشف اقبال جیلانی نے مؤقف اختیار کیا کہ لائسنس بھٹی گروپ کے بجائے ان کے بیٹے کے نام پر جاری کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ فیکٹری دودھ نہیں بلکہ کوئی اور مصنوعات تیار کرے گی، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہاں کیا تیار کیا جائے گا۔
ضبط شدہ سامان سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ معاملہ عدالت کے زیرِ اختیار ہے، جبکہ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سامان مالکان کے حوالے کیا جا چکا ہے۔





